حکومت پاکستان نے ملک بھر میں سستی، صاف اور ایندھن بچانے والی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم الیکٹرک بائیک اور رکشہ اسکیم 2026 کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ اسکیم نیو انرجی وہیکل پالیسی (30-2026) کے تحت شروع کی گئی ہے۔ جس کا مقصد روزمرہ ٹرانسپورٹ کو ماحول دوست بنانا اور صارفین کے اخراجات کم کرنا ہے۔
اسکیم کا مقصد
یہ قومی پروگرام بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلوں، الیکٹرک رکشوں اور تین پہیوں (تھری وہیلرز) کی سبسڈی کے ذریعے ماحول دوست ٹرانسپورٹ عام لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تاکہ پیٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہو اور شہروں میں آلودگی میں کمی آئے۔
اسکیم 2026 سے 2027 تک نافذ العمل رہے گی اور مکمل ملک میں دستیاب ہو گی۔ سبسڈی کے لیے انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی (لکی ڈرا) کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور مساوی مواقع فراہم ہوں۔
سبسڈی اور گاڑیوں کی تفصیل
گاڑی کی قسم اکائیوں کی مقدار حکومت کی سبسڈی لائسنس کی ضرورت موزوں افراد
الیکٹرک موٹر سائیکل 40,000 80,000 روپے نہیں طلبا، خواتین، ڈیلیوری رائیڈرز
الیکٹرک رکشہ 1,000 290,000 روپے ہاں ڈرائیور، روزانہ کمائی والے افراد
الیکٹرک تھری وہیلر 1,000 880,000 روپے ہاں دکان دار، چھوٹے ٹرانسپورٹرز
یہ سبسڈی شہریوں کو الیکٹرک گاڑی خریدنے سے پہلے بڑی مالی سہولت فراہم کرے گی۔ جس سے صارفین معمولی ادائیگی اور آسان قسطوں میں ادائیگی کر سکیں گے۔
درخواست دینے کی اہلیت
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط لازمی ہیں۔
درخواست گزار پاکستانی شہری ہو اور اس کے پاس درست قومی شناختی کارڈ (CNIC) موجود ہو۔
کم از کم عمر 18 سال ہو۔
الیکٹرک رکشہ یا تین پہیے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس ضروری ہے۔
الیکٹرک موٹر سائیکل کے لیے عمومی لائسنس کی ضرورت نہیں بشرطِیکہ CNIC ہو۔
درخواستیں صرف سرکاری آن لائن پورٹل pave.gov.pk کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ درخواست درج کرنے کے بعد کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ اور منتخب افراد کو SMS یا پورٹل اپ ڈیٹس کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔
اسکیم کے فوائد
الیکٹرک گاڑیاں پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات کو کم کرکے صارفین کے ماہانہ خرچ میں بھی کمی لاتی ہیں۔
ماحول میں آلودگی کم ہوتی ہے کیونکہ یہ گاڑیاں بجلی سے چلتی ہیں۔
طلبا، خواتین، کم آمدنی والے خاندان اور چھوٹے کاروباری افراد کو روزگار اور جدید ٹرانسپورٹ تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔
یہ اسکیم پاکستان میں صاف، سستی اور موثر ٹرانسپورٹ تک رسائی کے بڑے اقدامات میں سے ایک ہے۔ جس میں شفاف انتخاب، سبسڈی، اور آن لائن عمل کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سرکاری پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کریں اور ڈاﺅن لوڈ شدہ دستاویزات تیار رکھیں۔ تاکہ درخواست کا عمل آسانی سے مکمل ہو سکے۔
