تہران: ایران نے اپنے فضائی دفاع کو جدید بنانے کے لیے چین سے جدید لانگ رینج سرویلنس ریڈار سسٹم YLC-8B حاصل کر لیا ہے جس سے خطے میں فضائی طاقت کے توازن پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ماضی کی جنگی کشیدگی کے دوران اسرائیلی اور امریکی جنگی طیارے ایرانی فضائی حدود کے قریب متحرک تھے لیکن ایران کے پاس اس وقت محدود جدید ریڈار سسٹم موجود تھے جو دور سے پرواز کرنے والے اہداف کو موثر طریقے سے شناخت کر سکتے تھے۔ اب نئے چینی ریڈار کی شمولیت سے ایران کا فضائی دفاع مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
جدید YLC-8B ریڈار سسٹم تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ یہ 700 کلومیٹر دور تک پرواز کرنے والے میزائلوں کا بھی پتہ لگا سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل طیاروں کی شناخت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے یہ خطے کے جدید ترین ریڈار سسٹم میں سے ایک ہے۔
یہ ریڈار چین کے سرکاری دفاعی ادارے نانجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔ اسی ادارے نے JF-17 لڑاکا طیارے پر نصب KLJ-7 ریڈار سسٹم بھی تیار کیا، جو کئی ممالک کی فضائیہ کے زیر استعمال ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے ریڈار سسٹم کی تنصیب سے ایران کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا جس کا اثر خطے کی مجموعی تزویراتی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔
