ایک غلط قدم یا سازش؟ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟عدالت نادرا حکام پر برہم پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

ایک غلط قدم یا سازش؟ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟عدالت نادرا حکام پر برہم

ایک غلط قدم یا سازش؟ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟عدالت نادرا حکام پر برہم

ایک غلط قدم یا سازش؟ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟عدالت نادرا حکام پر برہم

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان شہری کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔

اس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے نادرا حکام سے سخت استفسار کیا کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟ اور یہ کہ “یہ تو پاکستانی ہیں، ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے گئے؟ ایک شخص کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا؟”

عدالت نے حکم دیا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی میں شامل ہے تو فوراً نام خارج کیا جائے۔

جسٹس ذوالفقار علی نے سماعت کے دوران کہا کہ “پیسے لے کر ہر فیملی میں پتہ نہیں کتنے افراد شامل کر دیے گئے ہوں گے۔”

بعد ازاں عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اس معاملے نے نادرا کی شناختی کارڈز کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ فیملی ٹری میں غیر متعلقہ افراد کی شمولیت سے نہ صرف شناختی کارڈز کے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی پر بھی براہ راست اثر پڑتا ہے۔

Exit mobile version