سویڈن نے افغان مہاجرین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سویڈن کے حکام کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین یورپ کے لیے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔ سویڈن نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کے لیے مشترکہ دستاویزی اور شناختی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ غیر قانونی اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی ممکن ہو سکے۔ سویڈن حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام ناکافی ثابت ہو رہا ہے اور یورپ کو اس مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
سویڈن کے وزیر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جرائم میں ملوث افغان مہاجرین کو یورپ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے افراد کو ہر قیمت پر ملک بدر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن حکومت افغان مہاجرین کی چارٹر فلائٹس کے ذریعے بے دخلی پر بھی غور کر رہی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یورپ میں بعض افغان مہاجرین منظم جرائم، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے بعد سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سویڈن کے اس فیصلے کے بعد یورپ بھر میں مقیم افغان مہاجرین میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ممکنہ ردِعمل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم سویڈن حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
