ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ نے کہا ہے کہ حملہ ہوا تو خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔
وزیردفاع نے بیان میں کہا کہ ہمارا دفاع دشمن کے لیے انتہائی دردناک ثابت ہو گا جو بھی ملک ایران پر حملے میں مدد کرے گا وہ قانونی طور پر ہدف قرار پائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے جنگ کے بعد فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ایران کی دفاعی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے ایران کے پاس دشمن کےلیے کئی حیران اور تباہ کن حربے موجود ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران نے ہمسایہ ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران میں جاری احتجاج میں مداخلت کرنے کی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو ایران امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا۔
سینئر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران نے علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملہ کرنے سے روکیں، حکام نے مزید کہا کہ ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران کو نشانہ بناتا ہے تو ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی اسپیشل ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہ راست رابطے معطل کر دیے گئے ہیں، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران ترکی، متحدہ عرب امارات اور قطر سے رابطے میں ہے، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی ادارے کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیر خارجہ سے بات کی، جبکہ عراقچی نے متحدہ عرب امارات اور ترکی کے ہم منصبوں سے رابطہ کیا۔
