تحریک انصاف نے بڑی مدت کے بعد خیبر پختونخوا سے باہر اپنے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا، اور اس کا پہلا مرکز کراچی میں سجایا گیا جلسہ رہا۔ شہر کی سڑکیں اور گلیاں اس دن ایک منفرد منظر کی گواہ بنیں، جہاں ایک لاکھ کے قریب لوگ صرف جلسہ گاہ میں موجود تھے، جبکہ باقی شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
مشاہدین کے مطابق، شہر کے مختلف حصوں سے جلسہ گاہ تک پہنچنا عام طور پر تیس منٹ کا سفر تھا، لیکن اس دن رش اور ہجوم کی وجہ سے یہ سفر پانچ گھنٹے میں طے ہوا۔ اس منظر نے نہ صرف شہر کے انتظامیہ بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا۔
معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے جلسے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا’’میں تسلیم کرتا ہوں کراچی کے لوگوں نے واقع ہی کمال کر دیا ہے۔ جلسہ گاہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ تھے، باقی سارا کراچی نکلا ہوا تھا‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی نے ثابت کیا کہ وہ تحریک انصاف کے حامیوں کا مضبوط مرکز ہے۔
یہ تاریخی جلسہ پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک سیاسی کامیابی ہے بلکہ کراچی کے عوام کی سیاسی شرکت اور جوش و خروش کا بھی واضح ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کی سڑکیں اور عوامی ردعمل نے اس دن کو یادگار بنا دیا۔
