وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا حکومت کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے سے متعلق بڑا عندیہ دے دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ہر صورت جاری رہے گا، اور اگر صوبائی حکومت دہشت گردوں کی حمایت میں آئی تو وفاقی حکومت دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ کے پی حکومت اس وقت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی اور کسی بھی صوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس موجود ہے، جس پر مستقبل میں پیش رفت ممکن ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ مذاکرات کا دائرہ صرف سیاسی جماعتوں تک محدود ہے، اور فوج کا سیاسی مذاکرات میں کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو تین مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، اور اب اپوزیشن کی صوابدید ہے کہ وہ اس ڈائیلاگ میں شریک ہوتی ہے یا نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ مذاکرات کرنے کے بجائے ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی رہنما ایک اور “9 مئی” کی کوشش میں ہیں، اسٹریٹ موومنٹ چلانا چاہتے ہیں اور ہڑتال کے ذریعے ملک کو معطل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔
رانا ثنا اللہ کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں گورنر راج کے امکان پر بحث شروع ہو گئی ہے، اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت کے لیے آنکھیں اب وفاقی حکومت کی اگلی کارروائی پر مرکوز ہیں۔
