کیا خارجی نورولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا وزیراعلیٰ کے پی کے بیانات پر ردعمل پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

کیا خارجی نورولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا وزیراعلیٰ کے پی کے بیانات پر ردعمل

کیا خارجی نورولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا وزیراعلیٰ کے پی کے بیانات پر ردعمل

کیا خارجی نورولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا وزیراعلیٰ کے پی کے بیانات پر ردعمل

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے یا اس کی بیعت کر لی جائے؟۔
تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ افغانستان دیگر ممالک میں دہشت گردی نہیں کرتا، حقائق کے برعکس ہے۔ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ افغانستان دہشت گردی میں ملوث ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام کو کنفیوژ کرنے کے لیے کھلم کھلا اور واضح جھوٹ بولا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گفتگو مضحکہ خیز نوعیت کی ہے کیونکہ اس میں کوئی لاجک یا منطق موجود نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 3800 سے زائد واقعات نہیں ہوئے؟ اس کے باوجود ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیانیہ اب کھل کر سامنے آ چکا ہے جو محض ایک سیاسی بیان ہے، جس میں نہ دلیل ہے اور نہ حکمت عملی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو پھر کیا دہشت گردوں کے سامنے جھک جانا ہے؟ کیا خارجی نورولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے یا اس کی بیعت کر لی جائے؟ کیا اب ہیبت اللہ یہ طے کرے گا کہ خیبرپختونخوا میں کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ کیا خیبرپختونخوا کی بچیوں کو اسکولوں اور کالجوں سے ہٹا کر غاروں میں بند کر دیا جائے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کرنا کیا ہے، اس حوالے سے کوئی واضح جواب موجود نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی سمیت دیگر غیور سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہو کر قربانیاں دیں، سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کچھ عناصر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں، ہم دہشت گردوں کے خلاف نہیں کھڑے ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ شامل ہوں گے، سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں نے کبھی ان لوگوں پر حملہ کیوں نہیں کیا؟
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اے این پی، جے یو آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر حملے ہوئے لیکن ان عناصر پر خوارج نے حملہ کیوں نہیں کیا؟ یہ خود کہتے ہیں کہ ہم فتنہ الخوارج کے مقبول بننا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان خیبرپختونخوا میں امن کرے، ایک عجیب منطق ہے۔ یہ کون سی پالیسی ہے کہ جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے، اسی سے ہماری سیکیورٹی کی گارنٹی مانگی جا رہی ہے۔

Exit mobile version