پی ٹی آئی سے مذاکرات؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا واضح اعلان،کھلاڑیوں کیلئے اہم خبر آگئی پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

پی ٹی آئی سے مذاکرات؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا واضح اعلان،کھلاڑیوں کیلئے اہم خبر آگئی

پی ٹی آئی سے مذاکرات؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا واضح اعلان،کھلاڑیوں کیلئے اہم خبر آگئی

پی ٹی آئی سے مذاکرات؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا واضح اعلان،کھلاڑیوں کیلئے اہم خبر آگئی

وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا اپنی ذات کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں اور اگر ان کی پارٹی بھی مذاکرات کرے تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف رنگ دکھا رہی ہے، اور اس میں کچھ لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ تصادم کے حق میں ہیں، جس سے پارٹی اندرونی تقسیم کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا، “بانی پی ٹی آئی صرف اپنی ذات کا سوچتا ہے، وہ اپنی ذات سے سوچنا شروع کرتا ہے اور وہیں پر ختم ہوتا ہے۔”

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مفاہمت اور مذاکرات کے لیے ایجنڈا طے کرنا ضروری ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ خواجہ آصف نے کہا، “میرا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں پیش رفت کر سکے گی۔ محمود اچکزئی بڑے اعتماد سے بانی پی ٹی آئی کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، لیکن اگلے سیشن میں میں ان سے ضرور پوچھوں گا کہ یہ اعتماد کس بنیاد پر ہے۔”

خواجہ آصف نے پاکستان میں حالیہ تشدد اور دہشت گردی کے معاملات پر بھی پی ٹی آئی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوان شہید ہوئے، لیکن پی ٹی آئی کے کوئی لیڈر شہداء کے گھروں کا وزٹ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے خون کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “اگر وہ ہمارے ساتھ کھڑے نہیں تو میں کس بنیاد پر مذاکرات کروں؟

انہوں نے 9 مئی کے واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے اس واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کی اور نہ کبھی معذرت کی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا رویہ بھی دہشت گردی کو فروغ دینے والا ہے اور وہ اس جنگ میں ہمارے ساتھ نہیں کھڑی۔

افغانستان کے حوالے سے بھی وزیر دفاع نے کہا کہ کابل حکومت ہمیں کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ ان کی سرزمین سے دہشت گردی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چار بار مذاکرات کے باوجود بھی افغان حکومت اس سلسلے میں تعاون دینے کو تیار نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے کابل حکومت کی مکمل ذمہ داری ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ مئی میں بھارت کی طرف سے فوج پر کیے گئے حملوں کے زخم ابھی تک تازہ ہیں، اور کے پی حکومت نے ان کی مذمت نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ نہیں ہیں۔

آخر میں وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر کسی ملک میں احتجاج ہوا تو دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے بھارت میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی بھی نشاندہی کی۔

خواجہ آصف کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں اور بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ایجنڈے پر ان کی سخت نکتہ چینی جاری رہے گ

Exit mobile version