غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور محکمہ داخلہ نے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 6 لاکھ 82 ہزار 141 افغان شہری افغانستان منتقل کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق ان میں 69 ہزار 431 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز شامل ہیں جو وطن واپس بھیجے گئے، جبکہ ملک بھر سے 2 لاکھ 16 ہزار 634 پی او آر کارڈ ہولڈرز کی واپسی بھی عمل میں لائی گئی۔ گزشتہ روز مزید 375 افغان شہری طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان روانہ کیے گئے۔
محکمہ داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ روز 139 اے سی سی اور 1 ہزار 224 پی او آر کارڈ ہولڈرز کو افغانستان واپس بھیجا گیا، جس کے بعد وطن واپسی کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ عمل نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی جاری ہے۔ ترکی میں گزشتہ ایک سال کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں مجموعی طور پر 1 لاکھ 52 ہزار سے زائد افغان باشندے گرفتار کیے گئے۔ ترک مائیگریشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں افغان شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی، جو 42 ہزار سے زائد تھی۔
رپورٹس کے مطابق افغان شہریوں کے بعد سب سے زیادہ گرفتاریاں شامی شہریوں کی ہوئیں، جبکہ ازبکستان، ترکمانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں گرفتار ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں 2024 میں ترکی بھر میں 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن گرفتار کیے گئے تھے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدامات ملک میں قانون کی بالادستی اور غیر قانونی مقیم شہریوں کی مؤثر رجسٹریشن و واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
