آزاد کشمیر: وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں حکومت نے حالیہ مہینوں میں عوامی مسائل کے حل اور ریاستی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کا محور محض فیصلے یا بیانات نہیں بلکہ عملی اقدام، متاثرہ طبقات کی فوری داد رسی اور بنیادی سہولیات تک عوام کی رسائی ہے۔
صحت، تعلیم، روزگار، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولیات جیسے شعبوں میں ایک کے بعد ایک ٹھوس اقدامات سے یہ واضح ہوا ہے کہ حکومت عوامی ضرورت کو مرکز بنا کر فیصلے کر رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی معاونت اور ملازمتیں فراہم کی گئیں، مہنگائی اور ٹیکس کے بوجھ میں کمی کی گئی، شفاف انتظامی اصلاحات کی گئیں اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی گئی، جس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
یکم و دو اکتوبر 2025 کے پرتشدد واقعات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو مکمل مالی معاوضہ اور سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں، جبکہ پرتشدد واقعات سے متعلق 192 ایف آئی آرز کا جائزہ مکمل کر کے 177 کو واپس کیا گیا اور ہلاکتوں کے 15 مقدمات برقرار رکھے گئے ہیں۔ عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
تعلیمی شعبے میں دو نئے انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈز کے قیام کے لیے قانونی ترمیمی آرڈیننس کے عمل کو تیز کیا گیا، اور تمام تعلیمی اداروں میں داخلے مکمل اوپن میرٹ پر کیے گئے۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے شروع کر دیے گئے ہیں۔
بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے تقریباً 9.9 ارب روپے کے جامع منصوبے تیار کیے گئے، واٹر سپلائی اسکیمیں اور پلوں کی مرمت کے منصوبے زیر عمل ہیں۔ کابینہ کا حجم کم کر کے 20 وزراء تک محدود کیا گیا اور انتظامی اصلاحات کے تحت محکموں کا انضمام مکمل کیا گیا۔
حکومت نے احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کے انضمام، ٹیکس میں کمی، بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری، منگلا ڈیم متاثرین کے واجبات معاف اور عوامی فلاح کے دیگر اقدامات کے ذریعے عوام کے مسائل کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔
یہ اقدامات اس بات کی غماز ہیں کہ حکومتِ آزاد کشمیر نے احتجاج یا وقتی بیانیے سے ہٹ کر نتائج پر مبنی حکمرانی، عملی ڈیلیوری اور عوامی فلاح کو اپنا مقصد بنایا ہے۔
