چین کے آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کے کامیاب تجربے پر روس کی مبارکباد، پیوٹن کا بیجنگ سے تعاون مزید مضبوط بنانے کا اعادہ
چین کی جانب سے آبدوز سے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد روس نے بیجنگ کو مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چین کی دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر روس اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے، دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
چینی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق چین نے آبدوز سے ڈمی وارہیڈ سے لیس ایک اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جو بحرالکاہل میں اپنے مقررہ ہدف تک کامیابی سے پہنچا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ معمول کی فوجی تربیتی مشقوں کا حصہ تھا، اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دیا گیا اور متعلقہ ممالک کو پیشگی اطلاع بھی فراہم کی گئی تھی۔
چین نے واضح کیا کہ اس تجربے کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا، بلکہ اپنی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔
دوسری جانب جاپان نے کہا کہ اسے تجربے سے قبل آگاہ کیا گیا تھا، تاہم ٹوکیو نے بیجنگ سے ایسے اقدامات پر نظرثانی کی درخواست کی۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی اعتراف کیا کہ چین نے پیشگی اطلاع دی تھی، لیکن ان کے بقول بیلسٹک میزائل کے تجربات خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
روسی حکام نے چین کے اس اقدام کو اس کی دفاعی خودمختاری کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اور بیجنگ مستقبل میں بھی اسٹریٹجک رابطے، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھیں گے۔

Leave feedback about this