اسلام آباد:سول سروسز اکیڈمی کی تازہ ترین پالیسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے دہائیوں سے اسکول کی دہلیز تک پہنچنے سے قاصر ہیں، جس کی بنیادی وجہ ناقص حکمرانی اور ناکافی فنڈز ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کیے ہوئے 2 برس بیت چکے ہیں، تاہم ساختی مسائل اور غیرمربوط انتظامی ڈھانچے کے باعث تعلیمی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو سکا۔
سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی تعلیمی ایکشن پلان 2026 کے تحت تیار کردہ روڈ میپس پر عمل درآمد کی شدید کمی ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ غربت، آبادی میں تیزی سے اضافہ اور تعلیم پر کم سرمایہ کاری نے اس بحران کو دہائیوں سے سنگین بنا رکھا ہے۔ 1990 سے 2010 تک تعلیمی انفرا اسٹرکچر آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہ کر سکا، جس سے نجی تعلیمی اداروں کا رجحان بڑھتا چلا گیا۔پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کیمپس کے پالیسی گروپس نے اپنی رپورٹ میں ملک بھر کے تعلیمی نظام کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت مفت تعلیم کی فراہمی کا خواب تاحال ادھورا ہے۔
تازہ ترین
ملک میں تعلیمی بحران؛ ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے قاصر،پنجاب سب سے آگے
- by web_desk
- جولائی 6, 2026
- 0 Comments
- 30 Views
- 2 گھنٹے ago

Leave feedback about this