مشرق وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کے قریب پہنچ گیا ہے اور فاصلے میں صرف سات سو کلومیٹر رہ گیا ہے۔ امریکا کے پاس ایران پر یومیہ آ800 حملوں کی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے۔
مشرقی وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ بحری بیڑے میں تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، ایف تھرٹی فائیو فائٹر جیٹ سمیت نوے طیارے اور 5 ہزار 680 اہلکار موجود ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا امریکی جنگی جہاز، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، بھی تین ہفتوں کے اندر مشرق وسطیٰ پہنچنے والا ہے۔ساحلی علاقوں میں لڑائی کے لیے تین خصوصی جنگی جہاز اور طویل فاصلے تک میزائل حملے کرنے والے دو ڈسٹرائرز بحرین کے بحری اڈے پر موجود ہیں۔
مشرقی بحیرہ روم میں امریکی فوجی اڈاے سوڈا بے کے قریب بھی دو ڈسٹرائرز تعینات ہیں، جبکہ بحیرہ احمر میں ایک جنگی جہاز موجود ہے۔اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ایف پندرہ اور ای اے ٹین لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
امریکی جنگی بیڑوں کی بڑھتی تعداد اور ممکنہ حملوں کے پیش نظر ایران بھی چوکس ہے۔آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جاری جنگی مشقوں کا معائنہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل محمد پاکپور نے کیا ہے۔

Leave feedback about this