Roze News تازہ ترین عالمی مال برداری کے اخراجات کم کرنے کیلئےامریکا کا تیل بردار جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور
تازہ ترین دنیا

عالمی مال برداری کے اخراجات کم کرنے کیلئےامریکا کا تیل بردار جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور

امریکا کا تیل بردار جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور

امریکا کا تیل بردار جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور

 

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عالمی سطح پر مال برداری کے ریکارڈ اخراجات کم کرنے کے لیے ان تیل بردار جہازوں پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر غور کررہی ہے جنہیں روس، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ زیرِ غور منصوبے کے تحت امریکا ماضی میں پابندیوں کی زد میں آنے والے بعض جہازوں کو غیر پابندی زدہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لے جانے کی اجازت دے سکتا ہے۔عہدیدار کے مطابق اس اقدام کا مقصد خلیجی خطے سے خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بڑھانا اور عالمی مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے۔

امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ مجوزہ نرمی کا مطلب روسی یا ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی اجازت دینا ہے جن پر واشنگٹن کی جانب سے پابندیاں عائد نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی مال برداری کے اخراجات میں ریکارڈ اضافے نے امریکی خام تیل کی طلب کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث امریکی انتظامیہ متبادل اقدامات پر غور کررہی ہے۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے رواں ہفتے ریاض میں منعقدہ ورلڈ پیٹرولیم کانگریس کے لیے ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انتظامیہ تیل بردار جہازوں کے ایک ایسے بیڑے پر پابندیاں نرم کرنے سے متعلق بات چیت کررہی ہے جسے عموماً ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔

تحقیقی ادارے انرجی اسپیکٹس کے مطابق وزیر توانائی نے یہ بات عالمی مال برداری کے بلند اخراجات کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کہی۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ اسے اس ویڈیو کا مکمل نسخہ یا تحریری متن دستیاب نہیں ہوسکا، جبکہ امریکی محکمہ توانائی نے بھی بتایا کہ یہ مواد فی الحال دستیاب نہیں ہے۔تاحال پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہوتا ہے تو اس سے تیل کی عالمی ترسیل اور مال برداری کی لاگت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

 

Exit mobile version