واشنگٹن: ایران پر پھر ممکنہ حملوں کے پیش نظر فوج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ حملوں کے وقت پر غور کر رہے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون نے کئی روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس ہدایت میں حملے شروع کرنے کی کوئی مخصوص تاریخ شامل نہیں تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل، اور ممکنہ طور پر اسرائیلی انتخابات سے بھی پہلے ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو ان میں ایران کے توانائی کے شعبے، بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر بمباری کا نشانہ بنانا متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق اگلے تین سے چار ہفتوں میں جنگ دوبارہ شروع ہونے سے وسط مدتی انتخابات متاثر ہو سکتے ہیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے ردعمل میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی معیشت کے تباہ حال ہونے کے باعث امریکا انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ایران کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، اور معاملات دو میں سے کسی ایک طریقے سے آگے بڑھیں گے، آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے۔ صدر ٹرمپ کے پاس تمام پتے ہیں اور وہ وہی کریں گے جو امریکا کے لیے بہتر ہوگا۔
دی اٹلانٹک نے بھی بدھ کو اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے کیمپ ڈیوڈ میں کئی گھنٹے تک ملاقات کی، جس میں جنگ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
