حملے کی رپورٹس پر برطانیہ سے اپنے بمبار طیارے منتقل کیے، امریکی میڈیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

حملے کی رپورٹس پر برطانیہ سے اپنے بمبار طیارے منتقل کیے، امریکی میڈیا

امریکا نے ایرانی ڈرون حملے کی رپورٹس پر برطانیہ سے اپنے بمبار طیارے منتقل کیے

امریکا نے ایرانی ڈرون حملے کی رپورٹس پر برطانیہ سے اپنے بمبار طیارے منتقل کیے

واشنگٹن: امریکا نے ممکنہ ایرانی ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر برطانیہ میں موجود اپنے تقریباً ایک درجن بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے منتقل کیا، امریکی میڈیاپوسٹ‘ نے انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر طیاروں کی منتقلی کی خبر دی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام کو حالیہ دنوں میں ممکنہ حملوں کے حوالے سے متعدد انٹیلیجنس وارننگز موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد برطانوی رائل ایئر فورس بیس فیئرفورڈ سے امریکی B-1 بمبار طیارے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو سب سے زیادہ تشویش اس بات سے تھی کہ ایران کی جانب سے کم قیمت اور چھوٹے ڈرونز کے بڑے گروپ پر مشتمل ایسا حملہ کیا جا سکتا ہے، جیسا جون 2025 میں یوکرین نے روس کے خلاف کیا تھا۔

یوکرین کے آپریشن اسپائیڈر ویب کے دوران 100 سے زائد چھوٹے مسلح ڈرونز کو کارگو ٹرکوں میں چھپا کر روس پہنچایا گیا تھا اور انہیں فوجی ہوائی اڈوں کے قریب تعینات کیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کے بیڑے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں ستمبر کے آخر میں مزید اضافہ ہوا، جب پولیس نے آر اے ایف فیئرفورڈ کے باہر سفید وین میں سوار 5 افراد کو گرفتار کیا۔

تاہم گرفتار افراد کے قبضے سے ڈرون یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا بلکہ پولیس کو صرف پیٹرول ملا۔ اس کے باوجود اس واقعے نے برطانوی ائیربیس پر موجود امریکی جنگی طیاروں کی سکیورٹی سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا۔

طیاروں کی منتقلی سے باخبر ذرائع کے مطابق بی ون بمبار طیارے ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی ضرورت پڑنے پر امریکی اڈوں سے اب بھی پرواز کر سکتے ہیں۔ یعنی طیاروں کو برطانیہ سے ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ممکنہ فوجی کارروائی سے مکمل طور پر الگ کردیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی اور چھوٹے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بڑے اور انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں، خصوصاً ایسے ائیربیس جو گنجان آباد علاقوں کے قریب واقع ہیں۔

چھوٹے ڈرونز کی کم لاگت کے باوجود ان کی بڑی تعداد میں کارروائی نے روس اور دیگر محاذوں پر مہنگے فوجی اثاثوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔ یوکرین کے روس کے خلاف ڈرون آپریشن کے علاوہ گزشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ میں بھی اسی نوعیت کے ڈرون آپریشنز سامنے آئے تھے۔

 

Exit mobile version