ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جنگ اور فوجی کارروائی کے ذریعے ایرانی عوام کو جھکانا ممکن نہیں، اس لیے اب ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پیزشکیان نے ملک میں اتحاد، یکجہتی اور قومی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ایران کو جنگ کے ذریعے زیر کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی موجودہ حکمت عملی ایران کے اندر موجود اختلافات کو پیدا کرنا اور انہیں مزید گہرا کرنا ہے۔ ان کے بقول مخالفین یہ سمجھ چکے ہیں کہ بمباری اور میزائل حملوں کے ذریعے ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس طریقے سے ایران پر قبضہ ممکن ہے۔
پیزشکیان نے ملک کے تمام طبقات اور مختلف گروہوں کو ریاستی امور کی انتظامیہ میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور معاشرے کے مختلف حصوں کے درمیان تعاون کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ایرانی صدر اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ بیرونی دباؤ اور فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی تاریخی جڑیں گہری ہیں اور کوئی طاقت اسے تباہ نہیں کرسکتی۔
پیزشکیان کے تازہ بیان کا پس منظر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی ہے، جس کے دوران ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ان کے بیان میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ طور پر اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کے الزام کو ایرانی حکومت کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
