ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف جنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
خطاب کے آغاز پر ایرانی صدر نے شہید آیت اللہ خامنہ ای اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے میناب اسکول کے بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں، ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی نمائندوں نے جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے دوران معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسکولوں، اسپتالوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے، ان کے بقول ایرانی صوبے لامرد میں بچوں پر کلسٹر بم بھی برسائے گئے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ خود دہشت گردی کرتے ہیں، وہی ایران پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی شہریوں پر بزدلانہ حملے کیے اور حملوں کے دوران عالمی قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے اپنا سر نہیں جھکایا، تاہم شہری آبادیوں کو بھی نشانہ نہیں بنایا، ان کے مطابق ملک کے دفاع کے لیے کسی کی اجازت یا منظوری کی ضرورت نہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ طاقتور ممالک ہی دنیا میں عدم استحکام اور تباہی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ایران اپنے اور دوسرے ممالک کے لیے عدم تحفظ نہیں چاہتا، جنگ کے میدان میں امن حاصل نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری توانائی چاہیے، جوہری بم نہیں، پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کی ترقی کا حصہ ہے، تاہم جوہری طاقت کے حق پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنا حق چھوڑ کر سر نہیں جھکائے گا اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت حاصل کرنے کا حق ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ اسے ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق ایران کی آبنائے ہرمز تک رسائی محدود کی گئی، جبکہ دوسری جانب اسی راستے کے اطراف میزائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے اپنے خلاف حملوں کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران مضبوط ہمسایہ ممالک چاہتا ہے اور ہمسایہ ممالک کو سیکیورٹی کا حریف نہیں سمجھتا۔
مسعود پزشکیان نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے امریکی حملوں، اسکول پر بمباری اور ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف اپنا دفاع کیا اور اس کے باوجود جھکا نہیں۔
مسعود پزشکیان نے خطاب کے آغاز میں ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے شہید بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں اور کہا کہ ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ان بچوں کو قتل کیا، جب کہ امریکا نے ایران کی خواتین، بچوں، مردوں اور سائنس دانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ معصوم شہری بزدلانہ حملوں کا شکار ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، اس کے باوجود ایران نہیں جھکا اور اس نے اپنا سر خم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنا دفاع کیا اور کبھی خواتین اور بچوں پر حملہ نہیں کیا۔
غزہ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک دہشت گرد کی طرح کارروائیاں کیں اور وہاں نسل کشی کررہا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ غزہ کی صورتِ حال بین الاقوامی میکانزم کی ناکامی ہے اور فلسطین میں انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں لوگ مزاحمت کررہے ہیں اور اس مزاحمت کو بموں اور حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اپنا دفاع کرنے والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے، جب کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کی وجہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 400 سال سے ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران کو مضبوط ہونا ہے اور وہ اپنی سیکیورٹی دوسروں کی عدم سیکیورٹی میں نہیں دیکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ایران کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
جوہری پروگرام کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو اپنی ترقی کے لیے پرامن نیوکلیئر انرجی درکار ہے اور وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس کوئی نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہوگا، تاہم پرامن مقاصد کے لیے اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران کبھی بھی سرنڈر نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ جنگ سے نہیں ڈرتا اور ایرانی عوام اپنی سرزمین سے آخری سانس تک محبت کرتے رہیں گے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں 70 ہزار معصوم افراد کو قتل کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس نیوکلیئر بم موجود ہیں، لیکن ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل قتل کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگتی ہیں، جو ان کے بقول ایک واضح دوغلی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن اور استحکام مطلوب ہے تو سب کے لیے ایک جیسا معیار ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ طاقت کے بغیر دنیا خطرناک ہے، تاہم ایران دنیا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بل کہ ترقی اور استحکام کے لیے ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران ایسا مستقل چاہتا ہے جہاں امن، استحکام اور احترام ہو اور ایسا مستقبل ہو جہاں کوئی دوسرے کے مستقبل کا فیصلہ نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جان لیں کہ پابندیاں ایران کی مزاحمت کو مزید تیز کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی اپنا سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی صدر نے خطاب میں مذید کہا کہ ایران طاقت کی زبان نہیں بل کہ مذاکرات کی بات سمجھتا ہے۔
مسعود پزشکیان کے خطاب کے دوران امریکی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اٹھ کر چلا گیا۔
