واشنگٹن: آبنائے ہرمز کے قریب امریکا کے لیے خدمات انجام دینے والے ایک بحری جہاز کو ایرانی ڈرونز اور میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں جہاز پر موجود بعض امریکی اہلکار زخمی ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق حملے میں چار ایرانی ڈرونز اور کم از کم ایک میزائل استعمال کیا گیا۔ ایک میزائل یا دوسرے پروجیکٹائل نے جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے معمولی نوعیت کے زخم آئے، جبکہ بعض افراد کو دھویں کے باعث سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
واقعے کی مزید تفصیلات اور حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہوسکی، جبکہ امریکی فوج کی جانب سے بھی ابھی تک اس واقعے پر تفصیلی عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں کم ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی اور تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے یہاں کسی بھی نئے حملے سے عالمی تیل کی سپلائی اور سمندری تجارت کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
