ایران جنگ کی حکمت عملی اور کامیابی کے امکانات پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فوجی کمانڈروں سے براہِ راست تفصیلی جائزہ لیا، جس میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر اور جنگ کے مستقبل سے متعلق اہم خدشات سامنے آئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے براہِ راست رابطہ کرکے ایران جنگ کے مقاصد، حکمت عملی، ایران کی مزاحمت اور امریکی فوجی وسائل کی صورتحال پر بے لاگ رائے طلب کی۔
رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں نے خاص طور پر امریکی فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے کم ہوتے ذخائر پر شدید تشویش ظاہر کی۔ ایک موقع پر ایک جنگی تھیٹر میں ان کی تعداد 100 سے بھی کم رہ گئی تھی۔
کمانڈروں نے یہ بھی بتایا کہ ایران جنگ کے باعث اہم میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر تاریخی طور پر کم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ امریکی فوجی حکام نے اس صورتحال کو مستقبل میں دیگر علاقوں، خصوصاً چین، روس اور شمالی کوریا سے متعلق امریکی دفاعی ضروریات کے لیے بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔
جے ڈی وینس نے فوجی کمانڈروں سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ ایران امریکی حملوں کے باوجود کتنی مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے میں اس کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں کی بریفنگ کے بعد وینس کو جنگ کی مجموعی حکمت عملی اور اس کے کامیاب اختتام کے امکانات کے حوالے سے گہری تشویش ہوئی۔ یہ جائزے ٹرمپ انتظامیہ کے عوامی سطح پر سامنے آنے والے نسبتاً پُراعتماد مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اپنی کارروائیوں اور دفاع کے لیے درکار وسائل موجود ہیں۔
