ملزمان کے قبضے سے 750 کلوگرام سے زائد تیار شدہ منشیات اور منشیات کی تیاری کیلئے درآمد کیا گیا خام مال ضبط کیا گیا، ملزمان کے ٹھکانوں سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا؛ مصری میڈیا
مصر کی ایک فوجداری عدالت نے بین الاقوامی سطح پر منشیات کی تیاری اور فروخت کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے جرم میں معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت سنا دی۔ مصر کے سرکاری اخبار ’الاہرام‘ اور عرب میڈیا کے مطابق ملزمان ایک ایسے منظم اور خطرناک جرائم پیشہ گروہ کا حصہ تھے جو منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال باقاعدہ طور پر بیرونِ ملک سے درآمد کرتا تھا تاکہ مصر میں منشیات تیار کر کے انہیں فروخت کیا جا سکے، حکام کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے دوران سنگین شواہد سامنے آئے۔
بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 750 کلوگرام سے زائد تیار شدہ منشیات اور منشیات کی تیاری کے لیے درآمد کیا گیا خام مال ضبط کیا گیا، منشیات کے علاوہ ان کے ٹھکانوں سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا، مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے مضبوط شواہد عدالت میں پیش کیے گئے، استغاثہ کے سامنے 20 سے زائد گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے، الیکٹرانک شواہد کے طور پر ملزمان کی آپسی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز اور سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیو کلپس بھی عدالت میں جمع کروائی گئیں۔
معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ نے اپنے اوپر عائد تمام تر الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا، تاہم عدالت نے تمام تر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی اس نیٹ ورک کے اہم ارکان تھے، سزا سنائے جانے کے بعد مصری قانون کے مطابق سارہ خلیفہ سمیت تمام محکوم افراد کو اعلیٰ عدلیہ میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
