پینٹاگون کی فوری طور پر امریکی فوجیوں میں ‘مردانگی کے ہارمون’ کے ٹیسٹ کی ہدایت تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

پینٹاگون کی فوری طور پر امریکی فوجیوں میں ‘مردانگی کے ہارمون’ کے ٹیسٹ کی ہدایت

پینٹاگون کی فوری طور پر امریکی فوجیوں میں 'مردانگی کے ہارمون' کے ٹیسٹ کی ہدایت

پینٹاگون کی فوری طور پر امریکی فوجیوں میں 'مردانگی کے ہارمون' کے ٹیسٹ کی ہدایت

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فعال ڈیوٹی اور ریزرو فورسز کے 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے اہلکاروں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی جانچ کا نیا لازمی نظام نافذ کردیا ہے۔

ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ ایک عام خون کا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ یہ ہارمون مردوں میں زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے، لیکن خواتین کے جسم میں بھی کم مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ اس ہارمون کو عموماً مردانگی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کے دوران بازو کی رگ سے تھوڑی مقدار میں خون لیا جاتا ہے اور اسے لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے۔ عموماً ٹیسٹوسٹیرون کی سطح جانچنے کے لیے صبح کے وقت خون کا نمونہ لیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت اس ہارمون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق دوبارہ ٹیسٹ یا دیگر ہارمونز کے ٹیسٹ بھی تجویز کرسکتا ہے تاکہ نتیجے کی درست تشخیص کی جاسکے۔

برطانوی خبر ساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے بدھ کو جاری کی گئی تفصیلی ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد فوجی اہلکاروں میں ہارمونز سے متعلق مسائل، جسم میں توانائی کی کمی اور تھکن جیسی علامات کی بروقت نشاندہی اور علاج کے ذریعے فوج کی مجموعی کارکردگی اور جنگی تیاری بہتر بنانا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ ماہ ٹیسٹوسٹیرون کی جانچ لازمی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس اعلان کے بعد طبی ماہرین نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا تمام اہلکاروں کی اس طرح بڑے پیمانے پر جانچ کے لیے سائنسی شواہد کافی ہیں۔

نئی ہدایات کے مطابق 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام مرد فوجی اہلکاروں کا خون کا ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار معلوم کی جاسکے۔ اس عمر سے کم مرد اہلکاروں کا ٹیسٹ صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ خود اس کی درخواست کریں یا ڈاکٹر کو ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی کوئی علامت محسوس ہو۔

خواتین فوجی اہلکاروں کے لیے صورتحال کچھ مختلف رکھی گئی ہے۔ ان کے لیے معمول کے مطابق ٹیسٹوسٹیرون کا خون کا ٹیسٹ لازمی نہیں ہوگا۔ تاہم ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خواتین میں مسلسل تھکن، ماہواری میں بے قاعدگی اور جسم میں توانائی کی کمی سے جڑے مسائل کی جانچ کی جائے۔

پینٹاگون کی دستاویز میں خواتین کو ٹیسٹوسٹیرون دینے کے حوالے سے بھی رہنما اصول شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مخصوص حالات میں، خاص طور پر ایسی خواتین جو مینوپاز کے مرحلے سے گزر چکی ہوں اور جن میں جنسی خواہش غیر معمولی طور پر کم ہو، ڈاکٹر ٹیسٹوسٹیرون کا ایسا استعمال تجویز کرسکتے ہیں جو اس دوا کے منظور شدہ استعمال سے ہٹ کر ہو۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ٹیسٹوسٹیرون کے استعمال کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم طبی ماہرین نے پینٹاگون کی اس وسیع پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Exit mobile version