چین کے پرائم منسٹر لی کیانگ نیپال بارڈر پر امدادی کارکنوں سے بھی پہلے پہنچ گئے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

چین کے پرائم منسٹر لی کیانگ نیپال بارڈر پر امدادی کارکنوں سے بھی پہلے پہنچ گئے

چین کے پرائم منسٹر لی کیانگ نیپال بارڈر پر امدادی کارکنوں سے بھی پہلے پہنچ گئے

چین کے پرائم منسٹر لی کیانگ نیپال بارڈر پر امدادی کارکنوں سے بھی پہلے پہنچ گئے

چین کے پرائم منسٹر لی کیانگ نیپال ڈیزاسٹر سے تباہ و برباد ہو جانے والے سرحدی علاقہ میں امدادی کارکنوں سے بھی پہلے پہنچ گئے۔  بیجنگ میں، صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت پولٹ بیورو کے اجلاس میں گلیشیئر جھیلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی مضبوط نگرانی اور قریبی بین الاقوامی آفات تعاون کے لیے زور دیا گیا۔

چین کی نیوز ایجنسی ژنہوا نے آج رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم لی کیانگ، خود جمعرات کی سہ پہر  سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر گیرونگ کے علاقے میں پہنچے۔ پرائم منسٹر اس علاقہ میں امدادی ٹیموں سے بھی پہلے پہنچے، پرائم منسٹر لی کیانگ کا یہ وزٹ صدر شی جن پنگ کی خاص ہدایت کا نتیجہ تھا کہ فوری طور پر مدد کے ضرورت مند عوام میں جائیں اور ان کو تسلی دیں۔

اس دورے سے تصدیق ہوتی ہے  کہ بیجنگ اس تباہی کو اعلیٰ ترین قومی ترجیح کے معاملے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

گئیرونگ Gyirong سرحدی علاقہ چین کے بیلٹ اور روڈ نیٹ ورک میں کلیدی کردار ادا کرتاہے جو ملک کو جنوبی ایشیا سے جوڑتی ہے، جہاں گزشتہ دہائی میں لاجسٹک زونز اور گاڑیوں کے پارکس بنائے گئے ہیں۔

تباہی کے اگلے روز ہی پرائم منسٹر لی متاثرہ عوام کے درمیان موجود تھے تاکہ وہ خود ہنگامی امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی اور رہنمائی کریں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی رسمی فوٹو اپ نہیں تھا۔ دورے کے دوران لی چیانگ نے گیئرونگ بارڈر پورٹ کے تباہ شدہ علاقے اور متاثرہ آبادی کا جائزہ لیا۔
ریسکیو اور سرچ آپریشن کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ لی۔

لاپتہ افراد کی تلاش، زخمیوں اور متاثرین کی امداد اور مواصلاتی رابطے بحال کرنے پر زور دیا۔
پرائم منسٹر لی نے خاص طور پر مزید ثانوی آفت کے خطرے پر توجہ دی، کیونکہ سیلاب اور ملبے نے دریاؤں کا راستہ روک کر عارضی جھیلیں بنا دی تھیں۔

لی چیانگ کا دورہ اس وقت ہوا جب چینی حکام کے مطابق خود گیئرونگ کے اندر ریسکیو ٹیمیں ابھی تباہ شدہ بنیادی علاقے تک پوری طرح نہیں پہنچ سکی تھیں۔ Reuters کے مطابق پیشہ ور چینی ریسکیو ٹیمیں 28 اگست کو، یعنی تباہی کے تقریباً 50 گھنٹے بعد، مرکزی تباہ شدہ بارڈر کمپلیکس تک پہنچ سکیں۔ وہاں انہیں تقریباً مکمل تباہی ملی۔

پرائم منسٹر  لی چیانگ کے دورے میں گلیشئیل کولیپس سے بننے والی رکاوٹی جھیلوں کا خطرہ بھی زیرِ بحث تھا، لیکن اس وقت صورتحال ابھی تیزی سے بدل رہی تھی۔ اگلے دن فضائی سروے اور 3D modelling کے بعد چینی حکام نے ریسکیو دوبارہ شروع کیا، اور آج سیٹلائٹ نگرانی سے معلوم ہوا کہ بننے والی جھیل کا رقبہ گھٹ رہا ہے۔ تاہم اوپر کی جانب ایک دوسری، بڑی جھیل اب بھی نگرانی میں ہے۔

 

Exit mobile version