رمینہ گلزار
اداکار محمد عثمان ملک نے اپنے کیریئر میں پروجیکٹس کے انتخاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ حالیہ برسوں میں ٹیلی ویژن ڈراموں اور فلموں میں کم کیوں نظر آئے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں محمد عثمان ملک نے کہا کہ وہ صرف اسکرین پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ہر پروجیکٹ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کے مطابق وہ ایسے کرداروں اور کہانیوں کا انتظار کرتے ہیں جو انہیں تخلیقی طور پر متوجہ کریں اور جن میں انہیں کچھ نیا کرنے کا موقع ملے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ وہ بڑے اور نمایاں پروجیکٹس کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ وہ اپنے کام میں اپنی انفرادیت اور صداقت کو برقرار رکھنا بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی کردار کو قبول کرنے سے پہلے وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا وہ اس کردار سے خود کو جوڑ سکتے ہیں اور اسے ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ایسا اداکار نہیں ہوں جو صرف پیسوں کے لیے کام کرے۔ میرے لیے میری پبلک امیج زیادہ اہم ہے۔”
محمد عثمان ملک نے ایسے پروجیکٹس میں کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی جو روایتی اور بار بار دہرائی جانے والی کہانیوں سے مختلف ہوں۔ ان کے مطابق وہ ایک جیسے کرداروں اور کہانیوں کو دہرانے کے بجائے ایسے پراجیکٹس کا حصہ بننا پسند کریں گے جو ناظرین کے لیے کچھ نیا پیش کریں۔
اداکار کے مطابق پروجیکٹس کے درمیان وقفہ ان کے لیے کام سے دوری اختیار کرنے کے بجائے اپنے اگلے کردار کے انتخاب کا حصہ ہے۔ وہ ایسے مواقع کا انتظار کرنا چاہتے ہیں جو ان کی دلچسپی اور اداکاری کے انداز سے مطابقت رکھتے ہوں۔
ان کا یہ مؤقف ان کے کیریئر میں پروجیکٹس کے انتخاب کے حوالے سے ایک محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مسلسل اسکرین پر نظر آنے کے بجائے محمد عثمان ملک ایسے کرداروں کو ترجیح دینے کی بات کرتے ہیں جن میں انہیں بطور اداکار کچھ نیا کرنے کا موقع مل سکے۔
دریں اثنا، سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ محمد عثمان ملک کو پاکستان کے معروف ریئلٹی شو تماشا سیزن 5 میں ممکنہ وائلڈ کارڈ امیدوار کے طور پر زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
تاہم، محمد عثمان ملک یا شو کی انتظامیہ کی جانب سے ان کی شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان اطلاعات کو فی الحال قیاس آرائی ہی سمجھا جا رہا ہے اور انہیں حتمی کاسٹنگ کی خبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
محمد عثمان ملک کی جانب سے پروجیکٹس کے انتخاب کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ گفتگو ان کے موجودہ کیریئر اپروچ کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، جس میں وہ تعداد کے بجائے کردار، کہانی اور تخلیقی مواقع کو اہمیت دینے کی بات کرتے ہیں۔
