ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی سمیت دیگر مسائل کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور دشمن کے خلاف آخری دم تک مزاحمت جاری رکھے گا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہونی ہے، بہتر یہی ہے کہ اسے آج ہی ختم کردیا جائے، کیوں کہ ایران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم ایران کسی بھی دباؤ میں آکر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کسی معاہدے کا خواہش مند ہے، تاہم وہ فی الحال کسی درست معاہدے کے لیے تیار نہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس اپنے فوجیوں سمیت ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔
انہوں نے ایران میں مہنگائی کی شرح 350 فیصد تک پہنچنے کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ ایران شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ امریکا کے معاہدوں کو بھی بہترین قرار دیا۔
