روس کی تیل و گیس پر تالہ !کوئی بھی روس سے تیل یا گیس نہیں خریدے گا، امریکہ نے حتمی اعلان کر دیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

روس کی تیل و گیس پر تالہ !کوئی بھی روس سے تیل یا گیس نہیں خریدے گا، امریکہ نے حتمی اعلان کر دیا

روس کی تیل و گیس پر تالہ !کوئی بھی روس سے تیل یا گیس نہیں خریدے گا، امریکہ نے حتمی اعلان کر دیا

روس کی تیل و گیس پر تالہ !کوئی بھی روس سے تیل یا گیس نہیں خریدے گا، امریکہ نے حتمی اعلان کر دیا

امریکی سینیٹ نے روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بل کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی تیل یا قدرتی گیس کے دنیا کے 5 بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو گا جس میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔

روس کے خلاف پابندیوں سے متعلق یہ دو طرفہ بل سینیٹ میں 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور ہوا۔

بل کا نام ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے جو یوکرین کے مضبوط حامی تھے اور 11 جولائی کو انتقال کر گئے تھے، لنڈسے گراہم کی جگہ ان کی بہن ڈارلین گراہم نے سینیٹ میں ذمے داریاں سنبھالی ہیں۔

سینیٹر ڈارلین گراہم نے بل کی منظوری کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف سخت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں پیوٹن کو وہاں ضرب لگائیں گی جہاں انہیں سب سے زیادہ تکلیف ہو گی۔

بل کی منظوری کے لیے 1 سال سے زائد عرصے تک کوشش کرنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ یوکرین کے عوام اکیلے نہیں ہیں، آج یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی یوکرین سے اور پیوٹن ماسکو سے دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ لنڈسے گراہم بھی اس پیش رفت کو دیکھ رہے ہوں گے۔

بل کے تحت صدر کو روسی تیل یا قدرتی گیس کے دنیا کے 5 بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اختیار ہو گا، موجودہ فہرست میں بھارت، چین، آذربائیجان، ہنگری اور سلوواکیہ شامل ہیں۔

تاہم ان ممالک کے لیے کچھ استثنیٰ بھی رکھا گیا ہے، جو ممالک روس سے اپنی 15 فیصد سے کم قدرتی گیس درآمد کرتے ہیں اور روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں انہیں پابندیوں سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔

بل میں روسی صدر پیوٹن، اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں، روسی مالیاتی اداروں اور توانائی کے منصوبوں پر بھی پابندیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ روس کی جانب سے موجودہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے پرانے اور دوبارہ رجسٹر کیے گئے تیل بردار بحری جہاز بھی نئی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔

بل کے ذریعے امریکی صدر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ قومی مفاد میں پابندیوں یا تجارتی پابندیوں سے استثنیٰ دے سکتے ہیں تاہم اس کے لیے انہیں کانگریس کو اس فیصلے کی تصدیق کرنا ہو گی۔

بل میں ایران سے متعلق 1996ء کے پابندیوں کے قانون کی مدت بھی 2031ء تک بڑھانے کی تجویز شامل ہے۔

اس قانون کے تحت ایران کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد بل اب امریکی ایوان نمائندگان میں جائے گا جہاں اس پر 31 اگست کو دوبارہ اجلاس شروع ہونے کے بعد غور کیا جائے گا۔

Exit mobile version