چین میں گزشتہ برسوں میں متعدد ایسے تعمیراتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جو دنگ کر دینے والے ہیں۔ مگر ہوا جیانگ برج یا پل ایک ایسا منصوبہ ہے جسے انجینئرنگ کا ناممکن کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو بلندی پر گھبراہٹ ہوتی ہے تو اس پل سے گزرنا آسان نہیں کیونکہ اس سے گزرتے ہوئے سر چکرانے لگے گا۔ یہ برج سطح زمین سے 625 میٹر بلندی پر واقع ہے اور اسے ستمبر 2025 میں اسے عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔ مگر یہ صرف اس لیے حیران کن نہیں کیونکہ یہ دنیا کا بلند ترین برج ہے بلکہ اس کی انفرادیت اس کی مصنوعی آبشار ہے۔
درحقیقت چینی حکام نے اسے محض ایک شاہراہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک حقیقی سیاحتی مقام کے طور پر تعمیر کیا ہے۔ یہاں گلاس واک ویز، برج ٹاور زکے اندر کیفے اور بنگی جمپنگ جیسی تفریحی سرگرمیاں دستیاب ہیں ۔
مگر سب سے زیادہ خاص چیز اس کی پانی کی چادر یا مضنوعی آبشار ہے۔ 300 میٹر لمبی آبشار میں لیزر سسٹم بھی نصب ہے تاکہ یہ رات کے وقت لوگوں کو دنگ کر دے۔ مقامی حکومت کے مطابق روزانہ ہزاروں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹائم میگزین نے اسے 2026 کے بہترین مقامات میں نمبرون پوزیشن پر رکھا تھا۔ جنوب مغربی چین میں واقع صوبے Guizhou میں ہوا جیانگ گرینڈ کینن برج کا مقصد سفری وقت میں کمی لانا ہے۔ Guizhou چین کا پہاڑی صوبہ ہے جہاں ایک سے دوسری جگہ سفر کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے اور اسی مقصد کے لیے یہ نیا پل تعمیر کیا گیا۔ اس پل کی بدولت جو فاصلہ پہلے 2 گھنٹوں میں طے ہوتا تھا، اب وہ ایک منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ اسٹیل سے بنے اس پل کی لمبائی 9482 فٹ ہے اور اس کی تعمیر جنوری 2022 میں شروع ہوئی تھی اور ستمبر 2025 تک اسے عوام کے لیے کھولا گیا۔ پل کے لیے 20 ہزار ٹن اسٹیل کو استعمال کیا گیا اور یہ مقدار 3 ایفل ٹاور کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔
