اسلام آباد، 24 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نیب مقدمات میں اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے فورم سے متعلق ایک اہم آئینی تنازع طے کردیا۔ یہ سوال ستائیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور 5 مارچ 2026 کو قومی احتساب آرڈیننس میں دفعہ 32-A کے اضافے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ دفعہ 32-A کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ سزا یافتہ شخص یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل احتساب، تیس روز میں FCC کے سامنے دوسری اپیل دائر کرسکتا ہے۔
عدالت کے سامنے بنیادی تنازع یہ تھا کہ جب نیب مقدمے کی اصل اپیل FCC کے دائر? اختیار میں منتقل ہوچکی ہے تو کیا اسی مقدمے سے متعلق ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ سن سکتی ہے؟ زیرِ سماعت ملزم عامر محمود کے وکیل کا مؤقف تھا کہ زیرِ سماعت قیدی کی ضمانت ضابط? فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ دفعہ 32-A صرف سزا یافتہ افراد کی دوسری اپیل کا ذکر کرتی ہے اور اس میں لفظ“ضمانت”موجود نہیں۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل اور نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مقدمہ، اپیل اور اس سے پیدا ہونے والی ضمنی کارروائی کو دو مختلف اعلیٰ عدالتوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175F(1)(a)، آرٹیکل 175F(2) اور قومی احتساب آرڈیننس کی دفعات 32 اور 32-A کو یکجا کرکے پڑھنے سے واضح ہے کہ نیب مقدمات کی دوسری اپیلوں اور FCC کے دائر? اختیار میں آنے والی متعلقہ زیرِ التوا کارروائیوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواستِ ضمانت مرکزی مقدمے سے کٹی ہوئی کوئی آزاد کارروائی نہیں، بلکہ اسی مقدمے سے پیدا ہونے والا ضمنی یا معاون معاملہ ہے۔ لہٰذا اصل اپیل FCC میں اور اسی مقدمے کی ضمانت سپریم کورٹ میں رکھنے سے متوازی کارروائی، قانونی ابہام اور متضاد احکامات کا خطرہ پیدا ہوگا۔
فیصلے کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ دائر? اختیار عدالت کی خواہش، فریقین کی رضامندی، سابقہ عملی روایت یا عوامی دباؤ سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ کسی ادارے کی شکست، فتح، پسپائی یا اختیار سے دست برداری کا معاملہ نہیں، بلکہ آئین کے مطابق عدالتی اختیار کی تقسیم ہے۔ کسی سابق مقدمے میں نیب کی جانب سے اعتراض نہ اٹھایا جانا بھی سپریم کورٹ کو وہ اختیار نہیں دے سکتا جو موجودہ آئینی اور قانونی نظام میں اس کے پاس نہیں رہا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سابقہ صوابدیدی درخواست برائے اجازتِ اپیل کی جگہ FCC میں دوسری اپیل کا باقاعدہ قانونی حق فراہم کیا گیا ہے، اس لیے ملزم کا عدالتی علاج ختم نہیں بلکہ نئے فورم پر منتقل ہوا ہے۔اس فیصلے کو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان طاقت کی کشمکش یا کسی ایک سیاسی شخصیت کے مقدمات کے تناظر میں پیش کرنا قانونی مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے مترادف ہوگا۔ فیصلہ کسی مخصوص ملزم، جماعت یا مقدمے تک محدود نہیں، بلکہ نیب، استغاثہ اور تمام ملزمان پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا اصول وضع کرتا ہے۔ اگر قانون نے FCC کو نیب مقدمات کا حتمی اپیلی فورم بنایا ہے تو کوئی فریق اپنی سہولت، پسند یا متوقع نتیجے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ فورم کا تعین شخصیت نہیں، قانون کرتا ہے۔
اصل بیانیہ یہ ہونا چاہیے کہ مضبوط عدلیہ وہ نہیں جو ہر معاملہ اپنے پاس رکھے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اختیار اور حدود دونوں کا احترام کرے۔ عدالت کی آزادی کا مطلب صرف ریاست یا حکومت کے سامنے کھڑا ہونا نہیں، بلکہ میڈیا، سیاسی دباؤ اور عوامی مقبولیت سے بالاتر ہوکر آئین کی پابندی کرنا بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے اختیار پر قبضہ نہیں کیا اور نہ اختیار ترک کیا، بلکہ یہ اصول قائم کیا کہ ایک مقدمہ ایک مربوط قانونی فورم پر چلے گا، فورم شاپنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر عدالت وہی اختیار استعمال کرے گی جو آئین اور قانون نے اسے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کا نیب مقدمات میں اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے فورم کے متعلق اہم فیصلہ

سپریم کورٹ کا نیب مقدمات میں اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے فورم کے متعلق اہم فیصلہ