شہادت کا لہو اور قوموں کی بقا: ایرانی قوم ایک نئے موڑ پر!!! تازہ ترین Roze News
تازہ ترین

شہادت کا لہو اور قوموں کی بقا: ایرانی قوم ایک نئے موڑ پر!!!

شہادت کا لہو اور قوموں کی بقا: ایرانی قوم ایک نئے موڑ پر!!!

 

برصغیر پاک وہند کے مشہور شاعر جناب مولانا عبدالمجید سالک مرحوم نے1931 میں ایک شہرہ آفاق نظم لکھی۔ جس کا عنوان تھا "تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے” یہ نظم اس وقت خاص طور پر کشمیر میں جام شہادت نوش فرمانے والے مجاہدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی گئی تھی۔ یہ نظم اس وقت کے ہندوستانی مسلمانوں میں بہت مشہور ہوئی مگر اپنے آفاقی پیغام کی بدولت یہ آج بھی اتنی ہی مقبول اور ہردلعزیز ہے۔ اسی نظم کو پاکستان بننے کے بعد پاکستان ایرفورس نے اپنا ترانہ بنا لیا۔ اس کے مندرجہ ذیل شعر خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں میں زبان زد عام ہوا:
"شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰۃ ہے”
یہ محض ایک شعری مصرعہ نہیں، بلکہ وہ روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے جسے تاریخ بار بار دہراتی آئی ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے رہنما کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب بھی کسی نظریے کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو بظاہر یہ حملہ ایک فرد پر ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ پوری قوم کے وجود، اس کے تشخص اور اس کے مستقبل پر وار ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں ایرانی سپریم روحانی قائد اور اعلی قیادت کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، ایک ایسا سانحہ جسے اگر محض ایک سیکیورٹی کی ناکامی یا سیاسی حادثہ سمجھا جائے تو یہ تاریخ، نفسیات، سیاست اور طاقت کے اصل کھیل کو سمجھنے سے انکار کے مترادف ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران کے دشمنوں کی طرف سے یہ ایک واشگاف پیغام اور کوشش تھی کہ قیادت کو ختم کر کے نظام کو مفلوج کیا جا سکتا ہے، نظریے کو کمزور کیا جا سکتا ہے، اور عوام کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مگر وہی پرانا سوال پھر سر اٹھاتا ہے:
کیا واقعی قومیں اپنے رہنماؤں کے جانے سے ختم ہو جاتی ہیں؟ یا پھر وہ اس صدمے کو اپنی طاقت میں بدل دیتی ہیں؟
ایران کی گلیوں، چوراہوں اور شہروں نے اس سوال کا جواب پوری دنیا کو دے دیا ہے۔ یہ کوئی عام ردعمل نہیں تھا۔ یہ کوئی وقتی جذباتی ابال نہیں تھا۔ یہ ایک ہمہ گیر قومی بیداری تھی—ایک ایسا منظر جہاں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، نہ صرف غم کے اظہار کے لیے بلکہ عزم کی تجدید کے لیے۔ آنکھوں میں آنسو ضرور تھے، مگر ان آنسوؤں میں شکست نہیں تھی؛ ان میں ایک عجیب عزم، ایک خاموش اعلان اور ایک غیر متزلزل ارادہ چھپا ہوا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایران نے اپنے مخالفین کو واضح پیغام دیا: "تم نے ایک فرد کو نشانہ بنایا ہے، مگر تم ایک نظریے کو نہیں مار سکتے۔”
ایران کی ریاست کو سمجھنے کے لیے اسے ایک روایتی قومی ریاست کے فریم میں دیکھنا بنیادی غلطی ہے۔ یہ ایک صدیوں پرانی تہذیب ہے مگر آج کا ایران ایک نظریاتی ریاست میں ڈھل چکا ہے۔ ایسی ریاست جس کی بنیاد ہی مزاحمت، خودمختاری اور قربانی کے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہاں شہادت کو شکست نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک تسلسل، ایک منتقلی اور ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ایک رہنما شہید ہوتا ہے تو وہ محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتا، بلکہ وہ ایک علامت میں تبدیل ہو جاتا ہے، ایک ایسی علامت جو آنے والی نسلوں کے لیے سمت متعین کرتی ہے۔
ایران کے دشمن اس بنیادی حقیقت کو یا تو سمجھنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی ہمیشہ ایک جیسی رہی ہے: قیادت کو نشانہ بناؤ، نظام کو کمزور کرو، عوام میں مایوسی پھیلاؤ، اور پھر سیاسی و معاشی دباؤ کے ذریعے ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دو۔ مگر ایران کا کیس ان تمام فارمولوں کو بار بار ناکام ثابت کرتا آیا ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: کہ پاکستان اور ایران جیسی مسلمان ریاستوں میں شہادت ایک سیاسی اور اسٹریٹیجک قوت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ محض ایک مذہبی یا جذباتی تصور نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا عنصر بن چکا ہے جو ریاستی پالیسی، عوامی رویے اور قومی بیانیے کو تشکیل دیتا ہے۔
ایران میں اس واقعے کے بعد جو فضا بنی ہے، وہ واضح اشارہ دے رہی ہے کہ اب مفاہمت کی گنجائش مزید محدود ہو جائے گی۔ جو عناصر یہ سمجھ رہے تھے کہ دباؤ بڑھا کر ایران کو نرم کیا جا سکتا ہے، وہ شاید ایک بار پھر غلطی کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب کوئی قوم اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتی ہے اور اس خطرے کو اپنے وجود سے جوڑ لیتی ہے، تو پھر وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے ارادوں میں مزید مصمم ہو جاتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی طاقتوں کو اپنی حکمت عملی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاملہ طاقت کے زور پر یا محض پابندیوں کے ذریعے حل ہونے والا نہیں۔ یہ ایک نظریاتی تصادم ہے، ایسا تصادم جس میں مذہبی جذبات، تاریخ، عقیدہ اور قومی وقار سب ایک ساتھ شامل ہیں۔
ایران کی عوامی یکجہتی اس وقت اپنی انتہا پر ہے۔ یہ یکجہتی وقتی نہیں بلکہ گہری جڑوں والی ہے۔ اس کی بنیاد ایک مشترکہ بیانیہ ہے، ایک ایسا بیانیہ جو یہ کہتا ہے کہ ہم پر حملہ ہوا ہے، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم مزید مضبوط ہوں۔
یہی بیانیہ کسی بھی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔
یہاں ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ سوال بھی اٹھتا ہے: کیا دنیا واقعی اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہے کہ طاقت صرف عسکری برتری کا نام نہیں؟ کیا یہ مان لیا جائے گا کہ نظریہ، عوامی عزم اور قربانی کا جذبہ بھی اتنی ہی بڑی طاقت ہیں جتنی کہ میزائل اور ٹینک؟
ایرانی قوم اور لیڈرشپ نے اس واقعے کے بعد جس منظم طریقے سے خود کو سنبھالا ہے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ذہنوں، دلوں اور بیانیوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اور اس محاذ پر ایران فی الحال بحیثیت قوم کامیاب ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
یہ تحریر کسی جذباتی مبالغے کی محتاج نہیں۔ زمینی حقائق خود بول رہے ہیں۔ ایک قیادت کو ختم کرنے کی کوشش نے ایک قوم کو مزید متحد کر دیا ہے۔ ایک حملے نے ایک بیانیے کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ اور ایک سانحے نے ایک ریاست کو مزید سخت، مزید منظم اور شاید مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک بار پھر ہمیں وہی سبق دیتی ہے جسے ہم بار بار بھول جاتے ہیں:
"شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
"لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوة ہے”
یہ لہو زمین میں جذب ہو کر ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ بیج بن جاتا ہے، ایسے بیج جو وقت کے ساتھ ایک ایسی طاقت میں تبدیل ہوتے ہیں جسے دبانا آسان نہیں رہتا۔
ایران آج اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ آگے کا راستہ آسان نہیں، خطرات بھی ہیں، چیلنجز بھی، اور عالمی دباؤ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر ایک چیز واضح ہے: اس قوم نے خوف کے آگے جھکنے کے بجائے خود داری اور مزاحمت کا راستہ چنا ہے اور جب قومیں یہ راستہ چن لیں، تو پھر تاریخ کا دھارا ان کے حق میں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اقوام عالم کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ طاقت کے زور پر کب تک عالمی نظام کو چلایا جا سکتا ہے۔ کیا دنیا اس حقیقت کو سمجھے گی یا ایک بار پھر اسے نظر انداز کر کے مزید بڑے بحران کو جنم دے گی۔ کیونکہ ایک چیز طے ہے، ایران کو زیر نگیں اور کمزور کرنے کی کوششیں اگر اسی طرح جاری رہیں، تو وہ الٹا اس کو مزید مضبوط کریں گی اور اس پورے خطے کی تباہی کا سبب بنیں گی۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس خطے کی تباہی پوری دنیا کی معاشی بربادی کا سبب بنے گی اور آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
یہی شہادت کا فلسفہ ہے۔ یہی اس کی طاقت ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے میں دنیا نے ہمیشہ دیر کی ہے۔ وللہ اعلم باالصواب.

تحریر:عبدالجبار ترین

Exit mobile version