خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، ایران کی کھلی وارننگ تازہ ترین Roze News
تازہ ترین

خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، ایران کی کھلی وارننگ

خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، ایران کی کھلی وارننگ

خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے، ایران کی کھلی وارننگ دوحہ: قطر کا کہنا ہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ قطری حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور اب سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے بتایا کہ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کےساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، اس دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پہلوؤں سے متعلق امور پر مثبت پیشرفت ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آنے والے دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

تہران: ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات یا نمازِ جنازہ کے دوران اسرائیل یا امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا انتہائی سخت جواب دے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ مخالفین کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مقدس شخصیات کی بے حرمتی برداشت نہیں کرے گا۔بیان میں کہا گیا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات انتہائی حساس موقع ہیں اور ایران کی مسلح افواج ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں دنیا بھر سے کئی سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنما اور تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔سرکاری اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد دوبارہ ایران واپس لا کر انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات اور جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث ملک بھر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر تہران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے انتہائی محتاط ہے، جبکہ آخری رسومات کے دوران سکیورٹی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

 

Exit mobile version