مینگورہ،سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر خالد محمود خالد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور تاجر برادری وفاقی حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی سمیت کسی بھی قسم کے نئے یا اضافی ٹیکسوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوات ٹریڈرز فیڈریشن نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام اور تاجر برادری ان ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف بھرپور، منظم اور مؤثر انداز میں مزاحمت کے لیے جلد ایک اہم نمائندہ اجلاس منعقد کرے گی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاجی حکمتِ عملی پر مشاورت کی جائے گی۔ڈاکٹر خالد محمود خالد نے وفاقی وزیر امیر مقام، ملاکنڈ ڈویژن اور سوات کے اراکینِ قومی اسمبلی کی جانب سے فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر عوام اور تاجر برادری کے مؤقف کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے کے عوام کے جذبات اور مطالبات کی حقیقی نمائندگی کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوام، تاجر برادری، منتخب نمائندے اور وفاقی وزیر ایک مؤقف پر متحد رہیں تو ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی غیر منصفانہ اقدام کی راہ روکی جا سکتی ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ سوات ٹریڈرز فیڈریشن عوام اور تاجروں کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
عوام اور تاجر برادری وفاقی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ٹیکس قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، خالد محمود

عوام اور تاجر برادری وفاقی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ٹیکس قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، خالد محمود