‘میری چھوڑیں، اپنی مقبولیت کی فکر کریں’: ٹرمپ کے نئے بیان پر میلونی کا جواب تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

‘میری چھوڑیں، اپنی مقبولیت کی فکر کریں’: ٹرمپ کے نئے بیان پر میلونی کا جواب

'میری چھوڑیں، اپنی مقبولیت کی فکر کریں': ٹرمپ کے نئے بیان پر میلونی کا جواب

'میری چھوڑیں، اپنی مقبولیت کی فکر کریں': ٹرمپ کے نئے بیان پر میلونی کا جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ امریکی صدر نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے منت سماجت کی، جس میلونی نے کرارا جواب دیا تھا۔ ٹرمپ نے پھر ایک بیان میں کہا کہ اٹلی میں میلونی کی مقبولیت کم ہوتی جارہی ہے، جس پر اطالوی وزیراعظم کی جانب سے جواب سامنے آیا ہے۔

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فرانس میں ’جی 7 سربراہی اجلاس‘ میں لی گئی ایک تصویر سے شروع ہونے والا تنازع میں ایران جنگ اور خارجہ پالیسی کے معاملات بھی شامل ہوگئے ہیں۔

جارجیا میلونی نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے بعد انسٹاگرام پر جاری تازہ بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ان کی ذات پر مسلسل حؐلے بلاجواز اور بے معنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مقبولیت کا دارومدار ٹرمپ سے تعلقات پر نہیں بلکہ اٹلی کے قومی مفاد کے دفاع پر ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ میں امریکا کو فوجی اڈے فراہم نہ کرنے کے معاملے پر میلونی نے جواب دیا کہ ’اٹلی ایک خودمختار ملک ہے اور اس کی پالیسیوں کا فیصلہ قومی مفاد کے مطابق کیا جاتا ہے‘۔

اطالوی وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میری مقبولیت آپ کا مسئلہ نہیں ہے، آپ کو اپنی توجہ اپنے معاملات پر مرکوز کرنی چاہیے‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ جی سیون اجلاس کے دوران اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے متعدد مرتبہ ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں کی ایک مشترکہ تصویر منظرِعام پر آئی تھی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے ان سے تصویر بنوانے کے لیے منت سماجت کی، جس پر اٹلی کی وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو جھوٹا قرار دیا تھا۔

اسی بیان کے جواب میں صدرٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اٹلی میں میلونی کی عوامی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے اور اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکنے کے معاملے پر امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو نے بھی اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اٹلی نے امریکا کو اپنی لینڈنگ اسٹرپس اور رن ویز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث امریکی کارروائیوں میں لاجسٹک مشکلات پیش آئیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اٹلی اور دیگر نیٹو اتحادیوں کے دفاع پر ہر سال سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، اس کے باوجود واشنگٹن کو مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد اب جارجیا میلونی دوبارہ بہتر تعلقات کی خواہاں ہیں تاکہ اپنی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کر سکیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے منفی ردعمل کا اظہار کیا۔

ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جارجیا میلونی ایک دوسرے کے قریبی سیاسی اتحادی سمجھے جاتے تھے، تاہم حالیہ تنازع نے دونوں کے تعلقات کو ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

اس تنازع کے بعد اٹلی کے وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر کے بیانات کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے امریکا کا اپنا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

Exit mobile version