اسلام آباد(نوابزادہ شاہ علی) ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں مون سون کا موسم متعدد متعدی اور ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث بیماریوں اور اموات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ شدید بارشوں، سیلاب، پانی کے جمع ہونے، نکاسی آب کے نظام میں خلل، پینے کے پانی کے ذرائع کی آلودگی اور مچھروں و دیگر جراثیم بردار حشرات کی افزائش کے نتیجے میں ہیضہ، شدید آبی اسہال، ٹائیفائیڈ، ملیریا، ڈینگی، چکن گونیا، لیپٹوسپائروسس، ہیپاٹائٹس اے اور ای سمیت مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ادارے کے مطابق سیلاب یا دیگر وجوہات کے باعث آبادیوں کی نقل مکانی، عارضی پناہ گاہوں میں ہجوم، صاف پانی اور طبی سہولیات تک محدود رسائی اور معمول کی صحت عامہ سرگرمیوں میں تعطل بھی بیماریوں کی منتقلی کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔این آئی ایچ نے زور دیا ہے کہ بروقت تیاری، مؤثر نگرانی، بیماریوں کی جلد تشخیص اور فوری ردعمل کے اقدامات مون سون سے متعلق بیماریوں کے عوامی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔یہ ایڈوائزری تمام وفاقی و صوبائی محکمہ جاتِ صحت، طبی مراکز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی رہنمائی کے لیے جاری کی گئی ہے تاکہ مون سون کے دوران بیماریوں کی نگرانی، تیاری، روک تھام اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور بیماریوں و اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے بتایا ہے کہ مون سون سے متعلق بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے حوالے سے مکمل ایڈوائزری ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی مون سون سے متعلق بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے حوالے سے اہم ایڈوائزری جاری

بارشوں کا نیا سلسلہ کب شروع ہوگا؟ محکمہ موسمیات نے اہم پیش گوئی کردی