بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو بڑا ریلیف دیا گیا ، وزیر اطلاعات تازہ ترین Roze News
تازہ ترین

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو بڑا ریلیف دیا گیا ، وزیر اطلاعات

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو بڑا ریلیف دیا گیا ، وزیر اطلاعات

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو بڑا ریلیف دیا گیا ، وزیر اطلاعات

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سابقہ بجٹوں سے مختلف اور ریلیف پر مبنی ہے۔ کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے اور وہ تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں، تاہم مخالفین بھی اس بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے جس میں مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے رہنما مسلسل ملک کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کر رہے تھے جبکہ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر تھے، درآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں تھے، شرح تبادلہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار تھی، برآمد کنندگان کے لیے ایل سیز کھلوانا دشوار تھا اور مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود 22 فیصد سے زائد تھی اور ترسیلات زر میں بھی نمایاں کمی آ چکی تھی، جبکہ بعض سرکاری شخصیات نے اس خدشے کے باعث چھٹیاں لے لی تھیں کہ ان کے دور میں ملک دیوالیہ نہ ہو جائے۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا۔ نواز شریف کے وژن کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی معاملات کو آگے بڑھایا اور آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیرس میں آئی ایم ایف سے معاملات طے نہ پاتے تو خدشہ تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جاتا، تاہم حکومت نے معاشی استحکام حاصل کیا اور 2 سال کی مسلسل محنت کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں وسیع اصلاحات متعارف کروائیں، سفارش کلچر ختم کیا، ٹیکس وصولی کے نظام کو مربوط بنایا اور کسٹمز سے لے کر انکم ٹیکس تک مکمل میرٹ کا نظام نافذ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بندرگاہوں پر ’’فیس لیس اپریزل‘‘ سسٹم نافذ کیا گیا جس کے تحت درآمد کنندہ یا برآمد کنندہ کا کسٹمز افسر سے براہ راست رابطہ ختم ہو گیا اور تمام عمل آن لائن انجام پانے لگا۔ اس سے تاخیر اور ناجائز مطالبات کی گنجائش ختم ہوئی اور جو کام پہلے ہفتوں میں ہوتے تھے اب دنوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ شوگر، مشروبات، سیمنٹ اور تمباکو جیسی بڑی صنعتوں میں نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے گئے۔ شوگر ملوں میں کیمرے نصب کیے گئے، بارکوڈ اور کیو آر کوڈ سسٹم نافذ کیا گیا جس کے نتیجے میں صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہوا۔انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت میں تقریباً 200 ارب روپے کی لیکیج موجود تھی جسے غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے کم کیا گیا۔ صرف ایک سال میں انفورسمنٹ کے ذریعے تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی وصولیاں ممکن ہوئیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے نئے ٹریبونلز قائم کیے اور زیر التوا مقدمات کے فیصلوں کے ذریعے کئی سو ارب روپے کی وصولیاں ممکن بنائیں۔ ملنڈا بل گیٹس فاؤنڈیشن بھی ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں شامل رہی جبکہ دنیا کے بہترین اداروں سے تعلیم یافتہ ماہرین آئی ٹی سسٹم چلا رہے ہیں۔وزیر اطلاعات نے بجٹ میں دیے گئے ریلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر آمدن والے طبقات کے لیے بھی ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنا حکومت کا اہم وعدہ تھا جسے پورا کیا گیا۔

 

Exit mobile version