چین کے صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز پیانگ یانگ پہنچنے پر شمالی کوریا کے ساتھ ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کو سراہا۔
یہ ان کا رواں سال کا پہلا بیرونی دورہ ہے، جو انہوں نے بیجنگ میں ایک کے بعد ایک سربراہی ملاقاتوں کی میزبانی کے بعد کیا۔
چین، جو واشنگٹن کا اہم جغرافیائی حریف ہے، کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس ملک کے لیے سفارتی و معاشی حمایت کا بنیادی ذریعہ رہا ہے، جو متعدد بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کی ویڈیو کے مطابق ایک ایئر چائنا طیارے کی آمد پر فوجی افسران سرخ قالین کے دونوں طرف کھڑے تھے، جس میں شی جن پنگ سوار تھے، یہ ان کا 2019 کے بعد جنوبی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔
ایئرپورٹ پر ایک بڑا بینر آویزاں تھا جس پر ’کامریڈ شی جن پنگ کو خوش آمدید‘ اور دونوں ممالک کی ’ناقابلِ شکست دوستی‘ کو سراہا گیا تھا، اس موقع پر چینی اور شمالی کوریا کے پرچم بھی لہرا رہے تھے۔
شی جن پنگ نے یہ دورہ اس وقت کیا جب انہوں نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ ہدف کی تصدیق کی تھی۔
تاہم شمالی کوریا کی بااثر رہنما کم جونگ اُن کی بہن نے شی کے دورے سے ایک روز قبل کہا تھا کہ ملک کا جوہری پروگرام ’واپسی سے ناممکن راستہ‘ ہے۔
ڈپلومیسی کے ماہرین کے مطابق بیجنگ اب شاید شمالی کوریا کو ایک جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم چین کی ترجیح خطے میں استحکام ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات اور اختلافات کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس کی حکمت عملی اب شمالی کوریا میں حکومت کے استحکام کو برقرار رکھنے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین ایک ایسے مضبوط اور اسلحہ سے لیس اتحادی کو ترجیح دیتا ہے جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے توازن کا کردار ادا کرے۔
شمالی کوریا نے 2019 میں ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ناکام ملاقات کے بعد خود کو ’ناقابل واپسی‘ جوہری ریاست قرار دیا تھا۔
کم جونگ اُن نے روس کے ساتھ تعلقات، خاص طور پر یوکرین جنگ کے دوران روسی افواج کی مدد کے بدلے میں، مضبوط کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین اس دورے کے ذریعے روس کے شمالی کوریا پر بڑھتے اثر کو بھی متوازن کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ماسکو اب بھی بیجنگ کے مقابلے میں کم طاقتور فریق ہے۔
شی جن پنگ نے شمالی کوریا کے سرکاری اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کا عہد کیا اور کہا کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، چین اور شمالی کوریا کی روایتی دوستی ہمیشہ ناقابلِ شکست رہے گی۔
چین اور شمالی کوریا کے درمیان یہ قریبی تعلق اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب خطے میں امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
