نیویارک :روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کا اشارہ دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ پُرامن تصفیے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم انھیں (یوکرین) کو بھی زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے سمجھوتہ کرنا ہو گا۔
یہ اہم بیان صدر پوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) کے سالانہ اجلاس کے دوران بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے دیا۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الاسکا میں دیے گئے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت نے دونوں فریقین کو سمجھوتوں کی جو تجویز دی ہے اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔
صدر پوٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روس بات چیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا لیکن یوکرین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے بھی لچک دکھانی ہوگی۔روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہماری افواج نے حالیہ دنوں میں یوکرین کا مزید 2440 مربع کلومیٹر کا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ لوہانسک کے خطے پر اب روس کا مکمل انتظام قائم ہو چکا ہے اور روسی فوج بہت جلد پورے ڈونباس کا کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔روسی صدر پوٹن کا مزید کہنا تھا کہ یوکرینی مہم جوئی کا سب سے بڑا مسئلہ فوجی عملے کی شدید کمی اور مغربی ہتھیاروں اور میزائلوں کی سپلائی میں تعطل ہے۔عالمی سیاست کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے صدر پوٹن نے بتایا کہ اس تمام تر کشیدگی کے باوجود روسی اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان بیک چینل رابطے اب بھی فعال ہیں۔
ٹرمپ کی تجویز کام آگئی؛ روس بھی یوکرین کیساتھ پُرامن تصفیے کیلئے تیار

ٹرمپ کی تجویز کام آگئی؛ روس بھی یوکرین کیساتھ پُرامن تصفیے کیلئے تیار