ایران کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین نے جو کہا تھا، وہ کر دکھایا، ایران کا نیا زمینی تجارتی راستہ سامنے آگیا، امریکہ دیکھتا رہ گیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

ایران کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین نے جو کہا تھا، وہ کر دکھایا، ایران کا نیا زمینی تجارتی راستہ سامنے آگیا، امریکہ دیکھتا رہ گیا

ایران کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین نے جو کہا تھا، وہ کر دکھایا، ایران کا نیا زمینی تجارتی راستہ سامنے آگیا، امریکہ دیکھتا رہ گیا

ایران کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین نے جو کہا تھا، وہ کر دکھایا، ایران کا نیا زمینی تجارتی راستہ سامنے آگیا، امریکہ دیکھتا رہ گیا

ایران کی معیشت کو سہارا دینے والا نیا زمینی راستہ سامنے آگیا

امریکی ناکہ بندی میں شدت آنے کے بعد ایران نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے متبادل تجارتی راستوں پر انحصار بڑھا دیا ہے، جس کے تحت چین اور ایران کے درمیان ریلوے نیٹ ورک کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ماہ 13 اپریل سے ایران اور چین کے درمیان مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، ذرائع کے مطابق چینی شہر شیآن اور ایرانی دارالحکومت تہران کے درمیان اب ہر تین سے چار دن بعد مال بردار ٹرین روانہ کی جا رہی ہے، جبکہ اس سے قبل ہفتے میں صرف ایک ٹرین چلتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق تہران امریکی بحری ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے کے لیے زمینی راستوں پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ امریکی افواج کی جانب سے خلیج اور بحیرہ عرب میں تلاشی اور جہازوں کے رخ موڑنے کی کارروائیوں کے باعث ایرانی بندرگاہوں کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

یہ ریلوے لائن وسطی ایشیا سے گزرتی ہے اور چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کا حصہ سمجھی جاتی ہے، جس کا مقصد چین، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تصور کیا جاتا ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل خریدنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔ دونوں ممالک توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے اپنے تعلقات مضبوط کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ریلوے رابطہ ایران کے لیے وقتی معاشی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے، تاہم یہ بحری تجارت کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا کیونکہ ٹرینوں کے ذریعے سامان کی ترسیل بحری جہازوں کے مقابلے میں محدود اور مہنگی ہوتی ہے۔ ایران کو اس راستے میں کئی لاجسٹک مسائل کا بھی سامنا ہے، جن میں مختلف ممالک سے گزرنے والے طویل راستے، ریلوے انفراسٹرکچر کا فرق اور بڑھتے اخراجات شامل ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ پابندیوں اور ناکہ بندی کا مقصد ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ ایران متبادل تجارتی راستے تلاش کرکے عالمی منڈی سے جڑے رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Exit mobile version