نیویارک:ایران جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے بقول اس بڑے جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔
انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ یہ اقدام ایران کے خلاف حالیہ جنگی کارروائیوں کے تسلسل میں کیا جا سکتا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے کیوبا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ جن کے تحت کیوبا کی حکومت، اس کے سیکیورٹی اداروں اور ان سے وابستہ افراد و اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی وزات خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ عناص بدعنوانی یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔امریکا کی جانب سے کیوبا میں توانائی، دفاع، مالیاتی خدمات، دھاتوں اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے ان امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کو جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا یہ رویہ نہ صرف دھمکی آمیز ہے بلکہ کیوبا کے عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی بن رہا ہے۔اسی طرح کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے بھی امریکی پابندیوں کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا کے عوام ان دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔