اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اپنی حکومت کے نئے سیکیورٹی ڈگری کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد اہم بیان دیا ہے۔ وزیراعظم میلونی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت تارکین وطن کی رضاکارانہ واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے وکیلوں کو دی جانے والی فیس کے معاملے پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔
قانون میں ممکنہ اصلاحات: وزیراعظم میلونی نے میلان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس متنازعہ شق میں اصلاحات لانے کے لیے ایک الگ بل متعارف کرانے کے لیے تیار ہیں، جس کے تحت تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر وطن واپس بھیجنے پر وکلاء کو کامیابی کی فیس (Success-fee) ادا کی جانی تھی۔
حکومتی موقف: وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس قانون کی کچھ شقوں میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہیں، تاہم رضاکارانہ واپسی کی حوصلہ افزائی کرنے کا بنیادی اصول بدستور برقرار رہے گا اور اسے لاگو کرنے کے عزم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بین الاقوامی مصروفیت: اپنے حالیہ دوروں اور ملاقاتوں کے دوران، خاص طور پر سائپرس میں یورپی یونین کے غیر رسمی اجلاس کے موقع پر، میلونی نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعہ اور نقل مکانی کے بحران پر یورپی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے لبنان اور دیگر خطوں میں قیامِ امن کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سفارتی تناؤ: حالیہ دنوں میں اٹلی اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس وقت کشیدگی دیکھی گئی جب روسی میڈیا کی جانب سے وزیراعظم میلونی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے، جس پر اطالوی وزارت خارجہ نے روسی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، جارجیا میلونی کا یہ بیان ان کی حکومت کی لچکدار پالیسی کا مظہر ہے، جس کے ذریعے وہ ایک طرف اپنے سخت امیگریشن کنٹرول کے ایجنڈے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف داخلی اور آئینی دباؤ کو بھی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدرِ اٹلی نے بھی اس قانون کی آئینی حیثیت پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد حکومت اب محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
