تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران امریکا پر یقین نہیں کرسکتا، تاحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا ارادہ نہیں، ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے ثابت کر دیا وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں، امریکا نے جارحانہ اقدام کیے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین ہے، امریکا پر اعتماد نہیں، امریکا ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ پاکستان میں پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز پر پہلے ہی مذاکرات ہو چکے ہیں، آبنائے ہرمز امریکا اور اسرائیلی حملوں سے پہلے مکمل طور پر محفوظ تھی، امریکا نے بحری ناکہ بندی عائد کر کے ایرانی جہاز پر حملہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات اور جنگ بندی دونوں کی دو مرتبہ خلاف ورزی کی ہے، ایرانی جہاز پر حملہ جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، امریکا نے ایران پر حملے کیے، شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی اس کی خلاف ورزی کی جس کی اطلاع پاکستان کو دی گئی، امریکا کی بحری ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہونگے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا ایران پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے، امریکا بجائے مثبت کردار ادا کرنے کے الزام تراشی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے، امریکا سے سچ بولنے کی توقع کبھی بھی نہیں کی۔
پاکستان کو بتا دیا ہے امریکا سے مزید مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں،ایران

پاکستان کو بتا دیا ہے امریکا سے مزید مذاکرات کا کوئی ادارہ نہیں،ایران