موریطانیہ کی خاتون اول کا اسلامی روایات کے تحت فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

موریطانیہ کی خاتون اول کا اسلامی روایات کے تحت فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار

موریطانیہ کی خاتون اول کا اسلامی روایات کے تحت فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار

موریطانیہ کی خاتون اول کا اسلامی روایات کے تحت فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار

افریقی ملک موریطانیہ کی خاتونِ اول کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون(Emmanuel Macron) سے مصافحہ کرنے سے گریز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب موریطانیہ کے صدر،اپنی اہلیہ اور وفد کے ہمراہ فرانس کے دورے پر تھے اور سرکاری استقبالیہ تقریب میں اعلیٰ حکام سے ملاقات کر رہے تھے۔اس موقع پر جب ایمانوئل میکرون( Emmanuel Macron) نے موریطانیہ کی خاتونِ اول سے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے نہایت شائستگی کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتونِ اول نے مسکراتے ہوئے روایتی انداز میں سلام کیا. تاہم مصافحہ سے اجتناب کیا. جسے مبصرین اسلامی روایات اور ذاتی عقائد کی پاسداری قرار دے رہے ہیں۔سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں سماجی آداب مختلف ہوتے ہیں اور عالمی رہنماؤں کو اس تنوع کا احترام کرنا چاہیے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عمل کسی قسم کی بے ادبی نہیں بلکہ ذاتی اور مذہبی اقدار کا اظہار ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس ویڈیو پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین نے خاتونِ اول کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے اسلامی اقدار کی عکاسی قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے سفارتی پروٹوکول کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی

Exit mobile version