دلوں کو چھو لینے والا اقدام! خاموش مگر بڑا فیصلہ! اٹلی وزیراعظم کے اقدام نے امت مسلمہ کے دل جیت لیے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

دلوں کو چھو لینے والا اقدام! خاموش مگر بڑا فیصلہ! اٹلی وزیراعظم کے اقدام نے امت مسلمہ کے دل جیت لیے

دلوں کو چھو لینے والا اقدام! خاموش مگر بڑا فیصلہ! اٹلی وزیراعظم کے اقدام نے امت مسلمہ کے دل جیت لیے

دلوں کو چھو لینے والا اقدام! خاموش مگر بڑا فیصلہ! اٹلی وزیراعظم کے اقدام نے امت مسلمہ کے دل جیت لیے

اٹلی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ فوری طور پر کوئی بڑے عملی اثرات نہیں رکھتا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی یوٹرن ہے جو اسرائیل کے ایک مضبوط یورپی اتحادی کے بڑھتے ہوئے تحفظات کو ظاہر کرتا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پیر کو وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا تھا کہ اٹلی 2003ء میں طے پانے اور 2005ء میں توثیق دی جانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تجدید نہیں کرے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی صنعت، اسلحہ خریداری کی پالیسی اور فوجی ساز و سامان کی درآمد و برآمد جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا تھا۔

یہ معاہدہ ہر 5 سال بعد خودکار طور پر تجدید ہو جاتا تھا، جب تک کہ فریقین میں سے کوئی ایک تحریری طور پر اسے ختم کرنے کا ارادہ ظاہر نہ کرے۔

پیر کو اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئیدو کروسیتو نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اسرائیل کاتز کو خط لکھ کر اسی ارادے سے آگاہ کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اس فیصلے کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جو کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس میں کوئی خاص مواد نہیں تھا۔

وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ اس سے اسرائیل کی سیکیورٹی متاثر نہیں ہو گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ زیادہ تر ایک سیاسی فریم ورک تھا نہ کہ عملی تعاون کی تفصیلات پر مبنی اور اٹلی نے اسے مکمل طور پر ختم نہیں بلکہ معطل کیا ہے، پھر بھی یہ فیصلہ ایک واضح پالیسی تبدیلی کی علامت ہے، خاص طور پر ایک ایسی دائیں بازو کی حکومت کے لیے جو یورپ میں اسرائیل کے مضبوط حامیوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی، جرمنی کے ساتھ، یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدہ معطل کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت بھی کرتا رہا ہے، جبکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے بھی گریز کیا گیا، تاہم حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔

اٹلی نے لبنان میں شہری آبادی پر اسرائیلی حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا، جبکہ جنوبی لبنان میں اطالوی امن فوجیوں کے قافلے پر مبینہ وارننگ فائرنگ کے واقعے پر بھی سخت ردعمل دیا، اس کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اٹلی کا یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر لبنان کے محاذ پر تناؤ کم کرنے کے تناظر میں، تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں آسانی پیدا ہو سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے یورپی ممالک خصوصاً اٹلی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ یہ علاقہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور اٹلی بڑی حد تک گیس درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق داخلی سیاست بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، آئندہ سال متوقع انتخابات سے قبل اٹلی میں عوامی سطح پر جنگ اور معاشی اثرات کے خلاف بے چینی پائی جاتی ہے، فلسطینیوں کے حق میں عوامی ہمدردی بھی نمایاں ہے، جس کا اظہار بڑے پیمانے پر مظاہروں کی صورت میں ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم میلونی ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات کے باعث اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، حتیٰ کہ وہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کچھ فاصلہ اختیار کرتی نظر آ رہی ہیں۔

یوں اٹلی کا یہ فیصلہ اگرچہ عملی طور پر محدود اثر رکھتا ہے، لیکن سفارتی اور سیاسی سطح پر یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادی بھی اب اس کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے ہیں۔

Exit mobile version