اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع تجارتی مرکز نتیوت میں بدھ کے روز لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں نے دھاوا بول دیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق شہد کی مکھیوں کے اس بڑے جھنڈ نے شاپنگ سینٹرز سے لے کر رہائشی علاقوں تک ہر جگہ ڈیرے ڈال دیے، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کی خاطر گھروں کے اندر رہیں اور کھڑکیوں و دروازوں کو بند رکھیں۔
شہر کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مکھیوں کی اتنی بڑی تعداد عمارتوں، گلیوں اور یہاں تک کہ لوگوں کی گاڑیوں اور گھروں کی بالکونیوں پر جم گئی ہے کہ ہر طرف صرف سیاہ دھبے اور بھنبھناہٹ سنائی دے رہی ہے۔
یہاں تک کہ اسرائیل کے لڑاکا اور جنگی طیارے بھی ان مکھیوں کے باعث اُڑان بھرنے سے قاصر ہوگئے ہیں۔
میونسپل حکام نے ایک ہنگامی وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لوگ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں اور کسی بھی صورت میں ان مکھیوں کے قریب جانے کی کوشش نہ کریں۔
مقامی انتظامیہ فی الحال صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اتنی بڑی تعداد میں مکھیاں اچانک شہر میں کہاں سے آ گئیں۔
اس غیر معمولی واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے جہاں کچھ صارفین اسے مذہبی حوالوں سے جوڑ رہے ہیں۔
ایک صارف نے بائبل کی کتاب ’یسعیاہ‘ کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس دن خدا مصر کی ندیوں سے مکھیوں اور اسور کی سرزمین سے شہد کی مکھیوں کو پکارے گا، جو قدیم زمانے میں غیر ملکی افواج کے حملوں کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
ایک صارف نے گزشتہ دنوں اسرائیل میں کوؤں کے جھنڈ کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ”پہلے کوے اب مکھیاں، اسرائیل پر خدا کا قہر“۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کے اس حصے میں جب موسم گرم ہونا شروع ہوتا ہے تو شہد کی مکھیوں کی سرگرمیاں بڑھ جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں کا ایک جھنڈ ہزاروں مکھیوں پر مشتمل ہو سکتا ہے جو آسمان میں ایک ساتھ سفر کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اپنی خطرناک شکل کے باوجود مکھیاں اس وقت کم خطرناک ہوتی ہیں جب وہ سفر میں ہوں یا جھنڈ کی صورت میں اڑ رہی ہوں، کیونکہ اس وقت ان کے پاس دفاع کے لیے کوئی مخصوص گھر یا چھتہ نہیں ہوتا۔
برطانیہ جیسے ممالک میں بھی موسمِ بہار کی گرم ہواؤں کے ساتھ مکھیوں کے ایسے جھنڈ اکثر دیکھے جاتے ہیں جنہیں بعد میں بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
فی الحال نتیوت کے شہری اس حملے کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
