اچانک ناقابل یقین خبر آگئی !آبنائے ہر مز کھولنے پر چین خوش ، ایران کو ہتھیار نہ دینے کا وعدہ کرلیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

اچانک ناقابل یقین خبر آگئی !آبنائے ہر مز کھولنے پر چین خوش ، ایران کو ہتھیار نہ دینے کا وعدہ کرلیا

اچانک ناقابل یقین خبر آگئی !آبنائے ہر مز کھولنے پر چین خوش ، ایران کو ہتھیار نہ دینے کا وعدہ کرلیا

اچانک ناقابل یقین خبر آگئی !آبنائے ہر مز کھولنے پر چین خوش ، ایران کو ہتھیار نہ دینے کا وعدہ کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ چین اس بات پر بہت خوش ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہے ہیں۔۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ اقدام نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں کر رہے ہیں اور یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ چین اس بات پر بہت خوش ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہے ہیں۔۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ اقدام نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں کر رہے ہیں اور یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر اور جامع معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔

جارجیا کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے وینس نے جاری مذاکرات کو ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جو ایک نازک جنگ بندی پر مبنی ہے جو تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ امریکا و ایران کے درمیان جنگ بندی 6 یا 7 دن سے برقرار ہے۔

وینس نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد چھوٹا موٹا معاہدہ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک جامع اور عظیم معاہدہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ جو ایران کو پیشکش کر رہے ہیں وہ بہت سادہ ہے اگر آپ ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اقتصادی طور پر ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے۔

دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دونوں رہنماؤں کو غیر معمولی میزبان اور ریاستی حکمت عملی کے حامل قرار دیا اور کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل آصف منیر اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بہت سراہنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں غیر معمولی میزبان تھے اور انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے بعد ہونے والے مذاکرات میں مدد فراہم کرنے میں حقیقی ریاستی حکمت عملی دکھائی۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو اختتام کے قریب قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی امن مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

ایک انٹرویو میں، جو پروگرام ’مارننگز وِد ماریہ‘ میں نشر کیا جائے گا، صدر ٹرمپ نے کہا ’میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً ختم ہونے والی ہے، میں اسے اختتام کے بہت قریب سمجھتا ہوں۔‘ یہ انٹرویو ماریہ بارٹی رومو کے ساتھ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، جو گزشتہ ہفتے پاکستان میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جمعرات کو دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

پیر کے روز امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جو تنازع میں ایک نئی شدت کا اشارہ ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب امریکا گزشتہ ہفتے ایران پر بمباری روکنے پر آمادہ ہوا تھا۔

دوسری جانب، فاکس نیوز کی میزبان ماریہ بارتی رومو کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے، جو ان کے اس مؤقف سے کسی حد تک متصادم دکھائی دیتا ہے جس میں وہ ایران کے شرائط نہ ماننے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو آج ایران جوہری ہتھیار کا حامل ہوتا، اور اس صورت میں عالمی طاقتوں کو ایران کے سامنے جھکنا پڑتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم امریکا کی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور آئندہ صورتحال کا انحصار ایران کے رویے پر ہوگا۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے قریب ہونے کی بات کی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اس مرحلے پر پیچھے ہٹ جائے تو ایران کو اپنی تباہ شدہ صورتحال سے نکلنے میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم ابھی ختم نہیں ہوئے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے حد بے چین ہیں۔‘

یاد رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یا ان کی ٹیم ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آئندہ 2 روز میں اسلام آباد جاسکتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہونے کا زیادہ امکان ہے اور اس کی بڑی وجہ  پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار ہے جو لائق تحسین ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ 2 دنوں میں اس حوالے سے اہم پیشرفت ہو سکتی ہے اس لیے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے کا امکان زیادہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کے لیے اسلام آباد ایک موزوں مقام بن رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی ملک اس معاملے میں براہ راست شامل ہی نہیں تو مذاکرات کسی اور جگہ کیوں کیے جائیں اس لیے اسلام آباد میں بات چیت زیادہ مناسب ہو سکتی ہے۔

امریکا اور ایران کے مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ پاکستان ایک بار پھر اس عمل میں مرکزی سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پیشرفت مختلف عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، بلومبرگ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکنے کے بعد اب اس کے پاکستان میں دوبارہ انعقاد کے امکانات موجود ہیں اور وفود اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر دی۔

دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات پر غور کر رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو کم کرنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر غور جاری ہے جبکہ ایران عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے شپمنٹس روکنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور سفارتی راستہ ہموار ہو سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک ممکنہ میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے تاہم دیگر مقامات پر بھی بات ہو رہی ہے۔

اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام اور ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات جمعرات تک دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور پاکستانی نژاد شخصیت ساجد نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔

ساجد نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں جہاں اسلام آباد معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ تہران کے جوہری پروگرام اور افزودگی کے منصوبوں پر مذاکرات کیے۔

اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم نائب صدر وینس کے مطابق ’کافی پیش رفت‘ ضرور ہوئی ہے اور اب آئندہ صورتحال کا دارومدار ایران کے فیصلوں پر ہے۔ ان کا کہنا تھا ’گیند اب مکمل طور پر ان کے کورٹ میں ہے۔‘

یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے کیے، جن میں ایران کی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ صدر ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

اس تنازع میں 13 امریکی فوجی اہلکاروں سمیت مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس جنگ میں امریکی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری تھا۔ ان کے بقول، ’اگر ہم ایسا نہ کرتے تو آج ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا۔‘

تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے قبل ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کے شواہد موجود نہیں تھے۔

Exit mobile version