امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے ایران کے آٹھ آئل ٹینکرز کو واپس موڑ دیا ہے، امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی سمندری تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق امریکی بحری افواج نے پیر سے اب تک ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے 8 جہازوں کو روک کر واپس جانے کی ہدایت دی۔
رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہر موقع پر امریکی فورسز نے ریڈیو کے ذریعے جہازوں کے عملے سے رابطہ کیا اور انہیں اپنا رخ تبدیل کرنے کا حکم دیا، جس پر تمام ٹینکرز نے عمل کیا اور کسی بھی جہاز پر چڑھائی (بورڈنگ) کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ادھر امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق امریکا خلیجِ عمان میں جہازوں کی نقل و حرکت روک کر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی ایجنسی کو بتایا کہ حکمت عملی کے تحت ان جہازوں پر نظر رکھی جاتی ہے جو ایرانی بندرگاہوں سے نکلتے ہیں اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد انہیں روک کر واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
عہدیدار کے مطابق امریکی فوج جہازوں کی شناخت کے لیے صرف خودکار ٹریکنگ سسٹم پر انحصار نہیں کرتی بلکہ دیگر ذرائع بھی استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری برتری برقرار ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی معیشت کا تقریباً 90 فیصد حصہ سمندری بین الاقوامی تجارت پر منحصر ہے، تاہم ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں کے اندر امریکا نے ایران کی بحری تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے، چاہے وہ ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہوں یا وہاں سے نکل رہے ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی شامل ہیں، جن میں عام طور پر 300 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار موجود ہوتے ہیں جو بحری دفاعی اور جارحانہ آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
