ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، جس کے لیے ایران کی مسلح افواج سے ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکا کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی خواہش، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔
