پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکال دیے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکال دیے

پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکال دیے

پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکال دیے

پاکستان کی سفارش پر امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو عارضی طور پر ہٹ لسٹ سے نکال دیا ہے، تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ تاہم ایران نے ابھی کوئی باقاعدہ بات چیت شروع نہیں کی اور ثالثی کے لیے پاکستان، مصر اور ترکی کردار ادا کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کی سفارش پر امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہٹ لسٹ سے عارضی طور پر نکال دیا ہے۔ اسرائیل کے پاس دونوں رہنماؤں کے کوآرڈینیٹس موجود تھے اور وہ ان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن سے کہا ہے کہ اگر یہ دونوں ہٹائے گئے تو ایران سے مذاکرات کے لیے کوئی رہنما باقی نہیں رہے گا۔ اس صورت حال میں ایرانی عوام کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا اور ایرانی عوام یا تو مارے گی یا مرے گی۔

یہ اقدام واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کو ایک موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو چار سے پانچ دن کے لیے ہٹ لسٹ سے نکالا گیا تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ سفارتی پیشکش کو پرکھا جا سکے۔

امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق کی وجہ سے مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات محدود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ اسی امید پر امریکا نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کو فی الحال روک دیا ہے تاکہ اگلے چند دنوں میں پیش رفت دیکھ سکے۔

تاہم انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر خبردار بھی کیا ہے کہ ایران کو جلد سنجیدہ ہونا ہوگا، ورنہ صورت حال ایسی نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی اور نتائج خوش گوار نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے اور کہا کہ انہیں صرف واشنگٹن کی جانب سے بات چیت کی خواہش کا پیغام ملا ہے، لیکن ابھی کوئی باقاعدہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔

اس سلسلے میں پاکستان، مصر اور ترکی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے راستہ بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تہران سمیت ایران کے کئی علاقوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوئی تھیں۔

ان شہداء میں وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل تھے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

اب حالیہ سفارتی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق شاید جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کم از کم ایک وقتی تعطل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کی وساطت سے ایرانی رہنماؤں کے نام ہٹ لسٹ سے نکالنے پر ممکنہ امن مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ صرف ثالثی کافی نہیں اور مذاکرات کی کامیابی دونوں فریقین کی سنجیدگی اور لچک پر منحصر ہوگی۔

Exit mobile version