اسلام آباد:افغانستان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق افغان طالبان ایک بار پھر وہی حکمتِ عملی اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں جو انہوں نے 1990 کی دہائی کی شورش کے دوران استعمال کی تھی یعنی ایسے علاقوں میں خود کو یا اپنے اتحادی عسکریت پسندوں کو رکھنا جہاں مخالفین کے لیے کارروائی کرنا انتہائی حساس یا خطرناک ہو۔سیکیورٹی حکام اور علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے بعض دہشت گردوں کو مبینہ طور پر کابل کے سخت سیکیورٹی والے سفارتی علاقے میں پناہ دی جا رہی ہے۔ناقدین کے مطابق یہ ایک سوچا سمجھا طریقہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے ان عسکریت پسند رہنماؤں کو پاکستان یا دیگر ہمسایہ ممالک کی ممکنہ ٹارگٹ کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ طریقہ افغان خانہ جنگی کے دور کی یاد دلاتا ہے۔
مثال کے طور پر ستمبر 1995 میں طالبان جنگجوؤں نے کابل میں واقع جرمن کلب کو رات گزارنے کے لیے استعمال کیا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مخالف افغان گروہ وہاں حملہ کرنے سے گریز کریں گے تاکہ غیر ملکی افراد کو نقصان نہ پہنچے۔مبصرین کے مطابق موجودہ حکمتِ عملی بھی اسی طرز کی معلوم ہوتی ہے،اہم عسکری شخصیات کو ایسے علاقوں میں رکھنا جہاں کسی بھی فوجی کارروائی سے سنگین سفارتی نتائج یا شہریوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔علاقائی میڈیا اور سیکیورٹی حلقوں میں گردش کرنے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر نیٹ ورکس کابل کے سفارتی علاقے کے اندر یا اس کے قریب سرگرم ہیں۔ ان میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود، کمانڈر حافظ گل بہادر، بلوچ عسکری رہنما بشیر زیب اور وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض جنگجو شامل بتائے جاتے ہیں۔
تشویش کا بنیادی مرکز وزیر اکبر خان کا علاقہ ہے، جہاں مختلف ممالک کے سفارت خانے، بین الاقوامی تنظیمیں اور سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے عملے کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ اگر عالمی دہشت گردوں کو اس علاقے میں رکھا گیا ہو تو اس کے خلاف کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا جائے گا۔ایک معروف پاکستانی صحافی نے بھی اسی نوعیت کے دعوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں کام کرنے والے بعض بین الاقوامی اداروں اور سفارتی عملے نے نجی طور پر طالبان حکام کے سامنے سفارتی کمپاؤنڈز کے قریب مسلح افراد کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔صحافی کے مطابق اقوام متحدہ کے بعض اہلکاروں اور بین الاقوامی این جی اوز کے عملے نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو علاقے سے منتقل ہونے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
افغان طالبان کی قیادت بارہا اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے افراد کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ایک حالیہ انٹرویو میں افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع اور طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے صاحبزادے ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی کے افراد کو دہشت گرد کے بجائے پناہ گزین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کون سمجھائے کہ جو تمہارا دہشت گرد ہے وہ ہمارا دہشت گرد نہیں ہے۔یعقوب کے اس بیان سے عملاً یہ بات تسلیم ہوتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے افراد افغانستان میں موجود ہیں تاہم طالبان حکومت انہیں منظم عسکریت پسندوں کے بجائے بے گھر افراد کے طور پر پیش کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا موجودہ مؤقف اس موقف سے کافی مماثلت رکھتا ہے جو انہوں نے 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے سے قبل اختیار کیا تھا۔11 ستمبر کے حملوں کے بعد عالمی برادری نے طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کیا جائے جن پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
اس وقت طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر نے انکار کرتے ہوئے بن لادن کو افغان روایات کے تحت مہمان قرار دیا تھا۔طالبان حکومت کا مؤقف تھا کہ بن لادن نے افغانستان میں پناہ لی ہے اور انہیں بغیر ثبوت کے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ یہی انکار اکتوبر 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مداخلت کا باعث بنا۔ انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (آئی ایس اے ایف) کے تحت 50 سے زائد ممالک اس مہم میں شامل ہوئے تھے۔تقریباً پچیس سال بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت ایک بار پھر اسی قسم کی دلیلیں استعمال کر رہی ہے تاکہ افغانستان میں عسکری گروہوں کی موجودگی کو جائز قرار دیا جا سکے۔متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق افغانستان اب بھی مختلف علاقائی اور عالمی ایجنڈا رکھنے والی عسکری تنظیموں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہونے کا امکان ہے۔ یہ تنظیمیں مختلف صوبوں میں تربیتی مراکز، لاجسٹک نیٹ ورکس اور محفوظ ٹھکانے قائم کیے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ اور مغربی انٹیلی جنس جائزوں میں جن گروہوں کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے ان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اسلامک اسٹیٹ خراسان (داعش خراسان)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ/ترکستان اسلامک پارٹی، کتیبت امام البخاری، اسلامک جہاد گروپ اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔ازبکستان، تاجکستان، روس اور چین بھی طالبان حکومت سے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغانستان سے ان دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ یہ وسطی ایشیا، چین، روس اور پاکستان کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ تاہم طالبان ان گروہوں کی میزبانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض افراد صرف اس لیے افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اپنے ممالک میں کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 2023–2024 کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ اب بھی طالبان کے ساتھ روابط رکھتی ہے اور افغانستان کے مختلف صوبوں میں تربیتی مراکز چلا رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنگجو اب بھی ملک میں سرگرم ہیں۔اسی طرح امریکی محکمہ دفاع اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان دوبارہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ 2023 کی امریکی کانگریس رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش خراسان سب سے نمایاں خطرہ ہے، لیکن القاعدہ اور دیگر علاقائی جہادی تنظیموں کے نیٹ ورکس بھی ملک بھر میں موجود ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق القاعدہ کے رہنما طالبان کی حفاظت میں افغانستان کے اندر کام کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور وہ رابطہ کاری، بھرتی اور تربیت کے نیٹ ورکس برقرار رکھے ہوئے ہیں۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں متعدد عسکری تنظیموں کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وسطی ایشیائی حکومتوں نے بھی ازبک، تاجک اور ایغور جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ روس، چین اور دیگر ممالک بھی بین الاقوامی فورمز پر یہ مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور بین الاقوامی سفارتی رابطہ کاری ہی اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ افغانستان دوبارہ عالمی عسکریت پسندی کا مرکز نہ بن جائے۔
