سائنس کی نئی تحقیق!کن بلڈ گروپس میں کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ؟جانیے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین صحت

سائنس کی نئی تحقیق!کن بلڈ گروپس میں کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ؟جانیے

سائنس کی نئی تحقیق!کن بلڈ گروپس میں کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ؟جانیے

سائنس کی نئی تحقیق!کن بلڈ گروپس میں کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ؟جانیے

اسلام آباد: کیا آپ جانتے ہیں کہ بلڈ گروپ کی مدد سے انسان کی مجموعی صحت کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں؟

بلڈ گروپ کسی شخص کو مستقبل میں خطرناک بیماریوں کے امکان سے بھی آگاہ کر سکتا ہے۔

حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بات پر توجہ مرکوز کی ہے کہ خون کے گروپ کی اقسام کے لحاظ سے کینسر کے خطرات کیسے مختلف ہو سکتے ہیں۔

طبی جریدے بی ایم سی کینسر میں 2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر خاص طور پر پیٹ کے کینسر اور بلڈ گروپ کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پیٹ کا کینسر جسے طبی اصطلاح میں ‘گیسٹرک کینسر’ کہا جاتا ہے، معدے کی اندرونی استر میں خلیات کی غیر معمولی نشوونما سے ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض بلڈ گروپس والے افراد میں معدے کے کینسر کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق بلڈ گروپ اے اور اے بی والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بلڈ گروپ اے والے افراد میں بلڈ گروپ او والے افراد کے مقابلے میں یہ خطرہ 13 سے 19 فیصد زیادہ ہوتا ہے جب کہ بلڈ گروپ اے بی والے افراد میں یہ شرح 18 فیصد تک پائی گئی ہے۔

ماہرین صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلڈ گروپ اے والے افراد میں ہیلیکوبیکٹر پائلوری نامی بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو کہ معدے کے کینسر کی ایک بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں تاہم اس انفیکشن کے بغیر بھی بلڈ گروپ اے والے افراد کو پیٹ کے کینسر کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خون کے گروپ کو براہ راست کینسر کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم مختلف بلڈ گروپس میں جسمانی سوزش، مدافعتی نظام، خلیات کے درمیان رابطے اور معدے میں تیزاب کی مقدار کو کنٹرول کرنے کی مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں اور یہ تمام عوامل بیماری کے خطرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق معدے کا کینسر متعدد عوامل کے امتزاج کی وجہ سے ہوتا ہے جن میں غیر متوازن خوراک، تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا، بعض انفیکشنز اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ یہ بیماری ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ کے کچھ حصوں میں زیادہ عام ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ اس کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، یہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ کثرت سے تشخیص کیا جاتا ہے.

ماہرین صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، متوازن غذا کھائیں، تمباکو نوشی سے گریز کریں اور کینسر سے محفوظ رہنے کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ کروائیں۔

Exit mobile version